<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>میرا پاکستان &#187; سچی کہانیاں</title>
	<atom:link href="http://www.mypakistan.com/?feed=rss2&#038;cat=15" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.mypakistan.com</link>
	<description></description>
	<lastBuildDate>Mon, 06 Sep 2010 20:33:30 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.0.1</generator>
		<item>
		<title>بڑے بول</title>
		<link>http://www.mypakistan.com/?p=4191</link>
		<comments>http://www.mypakistan.com/?p=4191#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 21 Feb 2010 13:38:15 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ميرا پاکستان</dc:creator>
				<category><![CDATA[سچی کہانیاں]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.mypakistan.com/?p=4191</guid>
		<description><![CDATA[ہمارے ایک بزرگ رشتے دار نے ایک بڑی مزے دار سبق آموز آپ بیتی سنائی۔ کہنے لگیں ان کا بڑا بیٹا بیس سال کا تھا جب خدا نے ان کو دوبارہ امید لگا دی۔ ان کی نند ملنے آئی اور کہنے لگی جب تمہارے ہاں بچہ پیدا ہو گا تو تمہارا بڑا بیٹا کیا کہے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>ہمارے ایک بزرگ رشتے دار نے ایک بڑی مزے دار سبق آموز آپ بیتی سنائی۔ کہنے لگیں ان کا بڑا بیٹا بیس سال کا تھا جب خدا نے ان کو دوبارہ امید لگا دی۔ ان کی نند ملنے آئی اور کہنے لگی جب تمہارے ہاں بچہ پیدا ہو گا تو تمہارا بڑا بیٹا کیا کہے گا۔ بزرگ خاتون یہ سن کر رونے لگی اور کہنے لگی یہ خدا کی دین ہے میں کیا کر سکتی ہوں۔ نند بولی میری طرح تم بھی پرہیز کر سکتی تھی۔ ساس نے بھی بیٹی کو جھڑکا اور کہا تم نے میری بہو کو رلا دیا ہے۔</p>
<p>خدا کا کرنا یہ ہوا کہ اگلے ہی ماہ نند اور اس کی بیٹی دونوں ایک ساتھ حاملہ ہو گئیں۔ دونوں کے ہاں نہ صرف اس سال بچے ہوئے بلکہ اگلے سال بھی ہوئے۔ جب بزرگ عورت اپنی نند سے ملیں تو کہنے لگیں میرا تو بیٹا تھا اب تمہارا جوائی کیا کہے گا۔ نند کہنے لگی بھابی کوئی اور بدعا دینی تھی۔ تم نے تو مجھے شرمندہ کر دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mypakistan.com/?feed=rss2&amp;p=4191</wfw:commentRss>
		<slash:comments>6</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>حد سے زیادہ خوداعتمادی</title>
		<link>http://www.mypakistan.com/?p=4186</link>
		<comments>http://www.mypakistan.com/?p=4186#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 20 Feb 2010 12:39:35 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ميرا پاکستان</dc:creator>
				<category><![CDATA[دنيا]]></category>
		<category><![CDATA[سچی کہانیاں]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.mypakistan.com/?p=4186</guid>
		<description><![CDATA[ہم نے دیکھا ہے کہ حد سے زیادہ خود اعتمادی بھی کبھی کبھی آدمی کو شرمندہ کر دیتی ہے۔ ہمیں دو ہزار ڈالر پاکستان بھیجنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو دوست کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے بنک اور ویسٹرن یونین کی بجائے ہم نے منی گرام کی خدمات حاصل کرنے کا پروگرام بنایا۔ پہلے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>ہم نے دیکھا ہے کہ حد سے زیادہ خود اعتمادی بھی کبھی کبھی آدمی کو شرمندہ کر دیتی ہے۔ ہمیں دو ہزار ڈالر پاکستان بھیجنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو دوست کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے بنک اور ویسٹرن یونین کی بجائے ہم نے منی گرام کی خدمات حاصل کرنے کا پروگرام بنایا۔ پہلے خود کو آن لائن رجسٹر کیا مگر پتہ چلا کہ آن لائن ایک وقت میں 899 ڈالر سے زیادہ نہیں بھیج سکتے۔ پھر ہم نے آن لائن ہی منی گرام کا دفتر ڈھونڈا تو پتہ چلا سی وی ایس فارمیسی کے سٹور پر منی گرام کی سہولت موجود ہے۔</p>
<p>سٹور کلرک نے منی گرام کے فون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا پہلے منی گرام کسٹمر سروس سے بات کریں اور پھر اسے رقم ادا کریں۔ ہم نے فون پر دو ہزار ڈالر کی رقم بھیجنے کی درخواست کی جو شناخت چیک کرنے کے بعد قبول ہوئی اور ہمیں کہا گیا سی وی ایس کی کیشیئر کو رقم دے کر اپنا نمبر لے لیں۔</p>
<p>آپ کو معلوم ہی ہے آج ہی پاکستان کو <a href="http://www.jang.com.pk/jang/feb2010-daily/20-02-2010/u21809.htm">منی لانڈرنگ</a> روکنے میں ناکام ہونے والے ممالک میں شامل کیا گیا ہے۔ جب کیشیئر نے دو ہزار ڈالر کے نوٹ دیکھے تو وہ مزید محتاط ہو گئی۔ پہلے کہنے لگی کہ وہ ایک وقت میں ایک ہزار سے زیادہ رقم ارسال نہیں کر سکتی۔ ہم نے اسے کہا ہمیں منی گرام والوں نے فون پر تو ایسا نہیں بتایا۔ پھر اس نے کمپیوٹر میں دو ہزار کی بجائے بیس ڈالر جمع کر دیے۔ بعد میں اس نے سٹور مینجر کو بلایا اور اس نے بتایا کیسے کمپیوٹر میں کاروائی مکمل کرتے ہیں۔ ابھی وہ کاروائی مکمل کر ہی رہی تھی کہ اتنے میں ایک اور سٹور کلرک آ گئی وہ کہنے لگی منی لانڈرنگ کی وجہ سے ہم ایک دن میں پندرہ سو ڈالر سے زیادہ نہیں بھیج سکتے۔ ہم نے اسے وہی بات دہرائی یعنی منی گرام والوں نے تو ہمیں یہ نہیں بتایا بلکہ انہوں نے تو ایکسچینج ریٹ کیساتھ یہ بھی بتایا کی رقم موصول کرنے والے کو کتنی رقم ملے گی۔ لیکن وہ تو جناب نہیں مانی اور آخرکار طے پایا کہ سٹور کلرک کمپیوٹر میں کاروائی مکمل کرے اور اگر کمپیوٹر رقم قبول کر لے تو ٹھیک۔ کمپیوٹر نے رقم قبول کر لی اور جان میں جان آئی۔ بعد میں دونوں خواتین نے کھسیانی ہنسی کیساتھ ہمارا شکریہ ادا کیا۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mypakistan.com/?feed=rss2&amp;p=4186</wfw:commentRss>
		<slash:comments>8</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>پلٹ کر جھپٹنا</title>
		<link>http://www.mypakistan.com/?p=4084</link>
		<comments>http://www.mypakistan.com/?p=4084#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 28 Jan 2010 00:43:59 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ميرا پاکستان</dc:creator>
				<category><![CDATA[سچی کہانیاں]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.mypakistan.com/?p=4084</guid>
		<description><![CDATA[باپ نے بیٹے کی جوانی کی پچیس بہاریں دیکھیں اور بیٹے کی شہ زوری اور جوانی پر خوب اتراتا رہا۔ اس کا بیٹا ہر فن مولا تھا یعنی ہر کھیل میں آگے۔ اس نے باڈی بلڈنگ شروع کر دی اور ضلع کا چیمپین قرار پایا۔ کرکٹ میں اتنا طاقتور کہ شاہد آفریدی کی طرح چھکے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>باپ نے بیٹے کی جوانی کی پچیس بہاریں دیکھیں اور بیٹے کی شہ زوری اور جوانی پر خوب اتراتا رہا۔ اس کا بیٹا ہر فن مولا تھا یعنی ہر کھیل میں آگے۔ اس نے باڈی بلڈنگ شروع کر دی اور ضلع کا چیمپین قرار پایا۔ کرکٹ میں اتنا طاقتور کہ شاہد آفریدی کی طرح چھکے لگانے کا ماہر۔ جہاں بھی اسلم جاتا وہ اپنے بیٹے کے نام سے جانا پہچانا جاتا۔</p>
<p>اسلم کا باپ اور دو چچا کمہاروں کا کام کرتے تھے اور ہمارے محلے میں رہتے تھے۔ ان کے پاس ایک کھوتی ہوتی تھی جس پر وہ چکنی مٹی لاتے اور برتن بناتے۔ جوان تھے اور بچوں میں خود کفیل تھے۔ گرمیوں میں رات کو اکثر گلی میں ہی سو جایا کرتے۔ اتنی سخت محنت نے ان کے دماغ بھی اکھڑ بنا دیے تھے۔ کوئی ہفتہ ایسا نہیں گزرتا تھا کہ وہ آپس میں لڑا نہیں کرتے تھے۔ انہی لڑائی جھگڑوں میں ان کی اولادیں جوان ہو گئیں۔ اولادوں نے کمہاروں کا کام کرنے کی بجائے دوسرے پیشے اختیار کر لیے۔ اسلم نے مستریوں کا کام سیکھا اور باہر چلا گیا۔ اس کی شادی ہوئی اور اس کی غیرموجودگی میں ہی بچے جوان ہو گئے۔</p>
<p>پچھلے سال ہم پاکستان گئے تو اسلم بھی اٹلی سے آیا ہوا تھا۔ وہ بہت بڑا گھر بنوا رہا تھا۔ ایک دن وہ ہمیں گھر کے سامنے ایک جوان لڑکے کسیاتھ ملا اور پوچھنے لگا کہ پہچانو یہ کون ہے۔ ہم نے مذاق سے کہا تمہارا بھائی کیونکہ اسلم اب بھی جوان ہی لگ رہا تھا۔ کہنے لگا نہیں یہ میرا بیٹا ہے اور میں اس کی جلد ہی شادی کرنے والا ہوں۔</p>
<p>چند ماہ قبل دوست نے بتایا کہ اس نے بیٹے کی دھوم دھام سے شادی کی اور وہ نئے گھر میں اکٹھے رہنے لگے۔ ابھی گھر کو مکمل ہوئے اور بیٹے کی شادی کئے چند ماہ بھی نہیں گزرے تھے کہ اپنے بزرگوں کی طرح ان کے گھر میں بھی لڑائی شروع ہو گئی۔ پہلے ساس بہو لڑیں پھر باپ بیٹا بھی میدان میں کود پڑے۔ اس لڑائی کی وجہ سے اسلم نے بیٹے کو بہو سمیت گھر سے نکال دیا۔</p>
<p>تمام دوست احباب نے اسلم کو بہتیرا سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ بضد رہا کہ بیٹا جب در در کی ٹھوکریں کھائے گا تو خود ہی سیدھا ہو جائے گی۔ بیٹے کی کمائی چونکہ زیادہ نہیں تھی اس لیے چند دنوں میں ہی وہ ہمت ہار بیٹھا۔ لیکن اس نے ایسا قدم اٹھایا جو بہت کم لوگ اٹھاتے ہیں۔ یعنی بجائے اس کے کہ وہ اپنے باپ سے معافی مانگ کر صلح کرتا، ایک دن وہ بیوی سمیت ماں باپ کی اجازت کے بغیر اپنے گھر واپس آ گیا۔ جب باپ گھر آیا تو بیٹا بولا ابا میں گھر واپس آ گیا ہوں اور اب اگر مجھے گھر سے نکال سکتے ہو تو نکال کر دکھاؤ۔ اسلم نے جب دیکھا بیٹا تن کر سامنے کھڑا ہو گیا ہے تو اس نے خاموشی میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔</p>
<p>وہ دن اور آج کا دن نہ ساس بہو کی لڑائی ہوئی ہے اور نہ باپ بیٹے کی۔ کیونکہ ماں بھی بیٹے کے خوف کی وجہ سے بہو کو کچھ نہیں کہتی اور باپ ویسے ہی اٹلی واپس چلا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mypakistan.com/?feed=rss2&amp;p=4084</wfw:commentRss>
		<slash:comments>3</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>کیسے کیسے لوگ &#8211; بیوقوف</title>
		<link>http://www.mypakistan.com/?p=3796</link>
		<comments>http://www.mypakistan.com/?p=3796#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 14 Nov 2009 10:27:00 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ميرا پاکستان</dc:creator>
				<category><![CDATA[سچی کہانیاں]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.mypakistan.com/?p=3796</guid>
		<description><![CDATA[ہم نے پچھلے سال گرمیوں میں ویک اینڈ پر کرکٹ کھیلنی شروع کی تو ایک دبلے پتلے بائیس سالہ لڑکے نے بھی کھیلنا شروع کیا۔ اس کی بیٹنگ اور باؤلنگ سے ہم نے اندازہ لگایا کہ لڑکا عقل کا تھوڑا کم اور جذباتی زیادہ  ہے کیونکہ وہ باؤلنگ بہت تیز کرنے کی کوشش میں لائن [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>ہم نے پچھلے سال گرمیوں میں ویک اینڈ پر کرکٹ کھیلنی شروع کی تو ایک دبلے پتلے بائیس سالہ لڑکے نے بھی کھیلنا شروع کیا۔ اس کی بیٹنگ اور باؤلنگ سے ہم نے اندازہ لگایا کہ لڑکا عقل کا تھوڑا کم اور جذباتی زیادہ  ہے کیونکہ وہ باؤلنگ بہت تیز کرنے کی کوشش میں لائن لینتھ پر کنٹرول نہیں کر پا رہا تھا۔ تھا وہ نمازی مگر تھوڑا خودپسند تھا۔</p>
<p>سیزن ختم ہونے کے بعد سردیوں میں معلوم ہوا لڑکا غائب ہو گیا ہے۔ بعد میں گھر والوں نے بتایا کہ لڑکا پاکستان سے کینیڈا پڑھنے آیا تھا اور اپنی بہن کے پاس رہ رہا تھا۔ اس کے دو تین سمیسٹرز میں نمبر کم آئے تو بہن اور بہنوئی نے اسے خوب جھاڑ پلائی۔ اس جھاڑ کا اس پرمثبت کی بجائے منفی اثر ہوا اور اگلے ہفتے وہ گھر سے غائب ہو گیا۔ اس کے دوست نے بتایا کہ وہ اسے پاکستان کی فلائٹ  کیلیے ایئرپورٹ چھوڑ کر آیا تھا۔<span id="more-3796"></span></p>
<p>پہلے تو ایئرپورٹ سے پتہ ہی نہ چلا کہ وہ پاکستان گیا کہ نہیں۔ اس کے رشتے داروں نے اسے پاکستان اور کینیڈا دونوں جگہ تلاش کرنا شروع کر دیا۔ یہ تلاش جوں جوں لمبی ہوتی گئی گھر والوں کی پریشانی میں اضافہ ہوتا گیا۔ بعد میں جب یہ ثابت ہو گیا کہ وہ پاکستان چلا گیا ہے تو ساری توجہ پاکستان پر مرکوز ہو گئی۔ اس کے باپ نے پولیس میں رپورٹ درج کرا رکھی تھی۔ آخرکار کئی ماہ کی تلاش رنگ لائی اور معلوم ہوا کہ وہ اسرار احمد کی اکیڈمی میں پڑھ رہا ہے اور وہیں اس کی رہائش ہے۔ یہ معمہ پولیس والوں نے حل کیا۔ اس کے مل جانے سے پہل پولیس ایک آدھ دفعہ اس سے پوچھ گچھ کر چکی تھی مگر ہر دفعہ وہ غلط نام بتا کر بچ جاتا رہا۔</p>
<p>بیوقوفی کی انتہا دیکھیے کہ اچھی بھلی تعلیم کا موقع ضائع کیا اور اپنی نالائقی کی سزا اپنے رشتے داروں کو دی۔ بھئی اگر تم پڑھ نہیں سکتے تھے تو پہلے ہی گھر والوں کو بتا  دیتے۔ وہ یا تو کینیڈا میں ہی تمہیں سیٹل کرا دیتے یا پھر تمہارے والدیں کوئی اور تدبیر کرتے۔ اسی طرح چند سال قبل ہمارے دوست نے اپنے چھوٹے بھائی کو کینیڈا اعلٰی تعلیم کیلیے بلایا۔ وہ تین سال یونیورسٹی جاتا رہا اور جب بھائی کےچالیس لاکھ روپے خرچ ہو چکے تو اس نے ہاتھ کھڑے کر دیے اور تعلیم ادھوری چھوڑ کر پاکستان چلا گیا۔</p>
<p>کیا یہ بیوقوفی نہیں کہ ہم خود کو ہی اندھیرے میں رکھیں۔ ہم نے اس طرح کی کئی مثالیں دیکھی ہیں جب لوگ جوش میں آ کر ہم عصروں کی دیکھا دیکھی لمبی چھلانگ لگانے کی کوشش کرتے ہیں مگر اپنی افیمچی طبیعت کی وجہ سے ناکام رہتے ہیں۔ آدمی کو وہی کرنا چاہیے جو وہ کر سکتا ہے اور پھر شروع میں ہی فیصلہ کر لینا چاہیے کہ وہ اس کام کے قابل ہے کہ نہیں۔ اس بیوقوفی کے پیچھے شیخ چلی جیسے خوابوں کا ہاتھ ہوتا ہے۔ بیوقوف آدمی خواب دیکھتا ہے مگر ان کی تعبیر پانے کیلیے محنت نہیں کرتا۔ پہلے وہ ہر کام کو آسان سمجھ کر کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر جب وہ اپنی سستی اور کاہلی کی وجہ سے ناکام ہونے لگتا ہے تو پھر اپنی کمزوری پر حتٰی الوسیع پردہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی کوشش میں وہ اپنا اور دوسروں کا قیمتی وقت اور سرمایہ ضائع کر دیتا ہے۔ آدمی وہی عقل مند ہے جو وقت پر طے کرے کہ اس نے جو کام شروع کیا ہے اسے مکمل کر بھی سکتا ہے کہ نہیں اور انتہائی عقلمند وہ ہے جو کام شروع کرنے سےپہلے طے کر لیتا ہے کہ وہ یہ کام کر کے رہے گا۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mypakistan.com/?feed=rss2&amp;p=3796</wfw:commentRss>
		<slash:comments>10</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>چھیڑ</title>
		<link>http://www.mypakistan.com/?p=3698</link>
		<comments>http://www.mypakistan.com/?p=3698#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 27 Oct 2009 20:54:44 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ميرا پاکستان</dc:creator>
				<category><![CDATA[ادب]]></category>
		<category><![CDATA[سچی کہانیاں]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.mypakistan.com/?p=3698</guid>
		<description><![CDATA[کسی کی چھیڑ تبھی بنتی ہے جب وہ کسی بھی وجہ سے خار کھائے یا چڑ جائے اور چپ کرنے کی بجائے واہی تباہی بکنا شروع کر دے۔ جہاں نام پڑنے کی ایک وجہ حلیہ بھی ہوتا ہے وہیں انسان کی خاص عادت بھی اس کا نام بگاڑنے کی وجہ بنتی ہے۔ چھیڑ کے موضوع [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>کسی کی چھیڑ تبھی بنتی ہے جب وہ کسی بھی وجہ سے خار کھائے یا چڑ جائے اور چپ کرنے کی بجائے واہی تباہی بکنا شروع کر دے۔ جہاں نام پڑنے کی ایک وجہ حلیہ بھی ہوتا ہے وہیں انسان کی خاص عادت بھی اس کا نام بگاڑنے کی وجہ بنتی ہے۔ چھیڑ کے موضوع پر بلاگر ڈفر اپنے خیالات کا اظہار <a href="http://www.dufferistan.com/?p=238">یہاں</a> اور<a href="http://www.dufferistan.com/?s=%DA%86%DA%BE%DB%8C%DA%91">یہاں</a> کر چکے ہیں۔ ہو سکتا ہے ہماری پوسٹ ان کی تحاریر کا چربہ ہی لگے۔ اسی طرح بلاگر خاور صاحب نے چند ماہ قبل ایک <a href="http://khawarking.blogspot.com/2009_07_01_archive.html">لوگو</a> میں تمام بلاگرز کی شخصیات کو سامنے رکھتے ہوئے نام دیے تھے۔<span id="more-3698"></span></p>
<p>پچھلے چند ماہ میں کچھ بلاگرز جب بہت جذباتی ہونے لگے تو تبصروں میں ان کی چھیڑ بھی پڑنے لگی مگر بلاگرز کی اچھی عادتوں کی وجہ سے یہ چھیڑ ایک حد سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ آن لائن چھیڑ سے بچنے کیلیے ضروری ہے کہ آدمی اپنے نقطہ نظر پر ایک حد تک زور دے اور بات بات پر کسی بلاگ پر اپنے تبصروں کی لائن نہ لگا دے۔ چھیڑ سے بچنے کا ایک اور کارگر نسخہ یہ ہے کہ ہر معاملے میں خواہ مخواہ لچ تلنے کی کوشش نہ کی جائے۔</p>
<p>ہمارے ایک کلاس فیلو بہت بولتے تھے اور زبردستی بولتے تھے اسلیے ان کی چھیڑ بن گئی &#8220;پہونکا&#8221;۔</p>
<p>ایک بوڑھا دیہاتی روز بازار سے کھوتی پر چارہ لے کر جایا کرتا تھا۔  ایک دن کسی نے اسے پوچھا &#8220;بابا کھوتی سوئی آ&#8221;۔ یعنی کھوتی نے بچہ دیا ہے۔ اس کو اس بات پر تپ چڑھ گئی اور وہ گالیاں بکنے لگا۔ اس کے بعد جب بھی وہ بازار میں کھوتی کے ساتھ نظر آتا کوئی منچلہ فقرہ کس دیتا &#8220;بابا کھوتی سوئی آ&#8221; اور وہ کھوتی کو چھوڑ منچلے کے پیچھے بھاگ کھڑا ہوتا۔</p>
<p>ایک بوڑھی عورت انتہائی چمکیلے کپڑے پہنا کرتی تھی۔ ایک دن کسی نے اسے مائی کبوتری کیا بلایا اس نے گالیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ اس کے بعد لوگ اسے مائی کبوتری کے نام سے چھیڑا کرتے اور اس کی گالیاں سن سن کر ہنسا کرتے۔</p>
<p>ہمارے ایک کلاس فیلو کو کچھ زیادہ ہی خلوص جتلانے کی عادت تھی۔ وہ جس سے بھی ملتے اسے گلے ضرور ملتے۔ پھر کیا تھا ایک دن ان کے نام کیساتھ &#8220;جپھا&#8221; کا لاحقہ لگ گیا۔</p>
<p>ایک کلاس فیلو کا سر بہت بڑا تھا اور سب نے ان کے نام کیساتھ &#8220;کٹا&#8221; لگا دیا۔</p>
<p>دو کلاس فیلو آپس میں بہت گہرے دوست تھے اور یونیورسٹي میں ہمیشہ ایک ساتھ نظر آتے۔ ان میں جو ذرا زیادہ خوبصورت تھا اس کا نام &#8220;ہیر&#8221; پڑ گیا۔</p>
<p>ہمارے ایک پروفیسر نئے نئے بھرتی ہوئے۔ شروع شروع میں انہیں طالب علموں کے سوالات کے جوابات دینا بہت مشکل لگتا تھا اور وہ اپنی کمزوری کو چھپانے کیلیے طالبعلم کو جھاڑ دیا کرتے تھے۔ پھر کیا تھا ان کے نام کیساتھ &#8220;ڈنگر&#8221; کا اضافہ ہو گیا۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.mypakistan.com/?feed=rss2&amp;p=3698</wfw:commentRss>
		<slash:comments>8</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
