<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
		>
<channel>
	<title>Comments on: کہیں یہ سوچی سمجھی سازش تو نہیں؟</title>
	<atom:link href="http://www.mypakistan.com/?feed=rss2&#038;p=3692" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.mypakistan.com/?p=3692</link>
	<description></description>
	<lastBuildDate>Thu, 09 Sep 2010 17:52:37 +0000</lastBuildDate>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.0.1</generator>
	<item>
		<title>By: محمداسد</title>
		<link>http://www.mypakistan.com/?p=3692&#038;cpage=1#comment-26580</link>
		<dc:creator>محمداسد</dc:creator>
		<pubDate>Tue, 27 Oct 2009 15:37:12 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.mypakistan.com/?p=3692#comment-26580</guid>
		<description>ایک عرصہ سے یہ بات سمجھانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ مسلمان کا روپ دھار کر جو لوگ دہشت گردی میں ملوث ہیں ان کی اسلام میں سرے سے گنجائش ہی نہیں۔ ضروری نہیں کہ جو طالبان کا نام لے کر مسلمانوں پر زمین تنگ کررہے ہیں وہ درحقیقت طالبان یا کسی اور گروہ کے ساتھی ہوں۔ کل کو کوئی شخص اٹھے اور کہے کہ میں فلاں تنظیم سے تعلق رکھتا ہوں تو کیا مان لیا جائے گا؟ ہر گز نہیں! تو پھر کیوں ان ظالموں کو مسلمانوں کے گروہ کا ایک حصہ قرار دے کر مسلمان اور مسلمان مملکتوں کو بدنام کیا جاتا رہا؟

دہشت گردی کے خلاف شروع ہونے والی جنگ میں جہاں اور بہت سے اصطلاحات نے جنم لیا وہیں کچھ الفاظوں کو ضرورے سے زیادہ اہمیت ملی نیز ‘انتہاپسندی‘ کو بھی مذہب سے جوڑ کر پیش کیا گیا۔ اور اس وقت سے آج تک صرف مسلمانوں ہی کو تختہ مشق نہیں بنایا گیا، بلکہ ان کے عمومی نظریات تک کو ‘انتہاپسندی‘ اور ‘دہشت گردی‘ سے مماثل قرار دیا جاتا رہا۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>ایک عرصہ سے یہ بات سمجھانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ مسلمان کا روپ دھار کر جو لوگ دہشت گردی میں ملوث ہیں ان کی اسلام میں سرے سے گنجائش ہی نہیں۔ ضروری نہیں کہ جو طالبان کا نام لے کر مسلمانوں پر زمین تنگ کررہے ہیں وہ درحقیقت طالبان یا کسی اور گروہ کے ساتھی ہوں۔ کل کو کوئی شخص اٹھے اور کہے کہ میں فلاں تنظیم سے تعلق رکھتا ہوں تو کیا مان لیا جائے گا؟ ہر گز نہیں! تو پھر کیوں ان ظالموں کو مسلمانوں کے گروہ کا ایک حصہ قرار دے کر مسلمان اور مسلمان مملکتوں کو بدنام کیا جاتا رہا؟</p>
<p>دہشت گردی کے خلاف شروع ہونے والی جنگ میں جہاں اور بہت سے اصطلاحات نے جنم لیا وہیں کچھ الفاظوں کو ضرورے سے زیادہ اہمیت ملی نیز ‘انتہاپسندی‘ کو بھی مذہب سے جوڑ کر پیش کیا گیا۔ اور اس وقت سے آج تک صرف مسلمانوں ہی کو تختہ مشق نہیں بنایا گیا، بلکہ ان کے عمومی نظریات تک کو ‘انتہاپسندی‘ اور ‘دہشت گردی‘ سے مماثل قرار دیا جاتا رہا۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین</title>
		<link>http://www.mypakistan.com/?p=3692&#038;cpage=1#comment-26579</link>
		<dc:creator>جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین</dc:creator>
		<pubDate>Tue, 27 Oct 2009 15:23:22 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.mypakistan.com/?p=3692#comment-26579</guid>
		<description>میں افضل صاحب ۔ آج کی دنیا کا طُرّہ امتیاز یہی ہے کہ وہ سطحی نقطے پکڑ کر یلغار کر دیتی ہے اورایسی کہ اصل آنکھوں اور ذہن دونوں سے ماؤف ہو جائے ۔ اور اسے پھر وہ اپنی فتح قرار دیں۔۔۔۔۔افتخار اجمل بھوپال

محترم اجمل صاحب۔ داڑھی، باعمل مسلمانوں اور اسلام کو سطحی طور پہ لیکر چڑھائی نہیں کر دیتا۔ بلکہ مسلمانوں کو بدنام اور اسلام سے متعلق پورے طرزِ زندگی کو ( خواہ وہ اسلامی لباس ہو ، پردہ و حجاب ہو، داڑھی ہو، سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا معاملہ ہو۔ الغرض اسلام سے متعلق کوئی بھی مسئلہ ہو یا اسلام کی تقلید کرنے والوں کا ذکر ہو)  ایک خاص طبقہ انتہائی مہارت و عیاری اور باقاعدہ سانٹیفک طریقے سے ۔ اسلام سے اپنا بغض نکالنا شروع کردیتا ہے اور کوئی موقع ایسا نہیں جانے دیتا جس سے مسلمانوں کا دل نہ دکھے۔اور عام آدمی شعوری یا لاشعروی طور پہ اسلام سے برگشتہ نہ ہو۔ پاکستان میں  پچھلے کچھ سالوں سے اس گندے اور گھناؤنے کھیل میں بہت شدت آئی ہے۔یہ مخصوص طبقہ اپنے عقل میں اسلام اور مسلمانوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش کر رہا ہے۔ 

سالوں پہلے جب بش سنئیر اور بش جونئیرنے عراق پہ شرمناک چڑھائی کے لئیے ساری دنیا کو جھوٹ کا وہ پروپگنڈا کیا تھا خاصکر یوروپ امریکہ میں عراق کے حق میں بات کرنے پہ عام آدمی مرنے مارے پہ تُل جاتے تھے۔ دنیا کو یوں باور کرایا گیا کہ ساری دنیا کی تباہی ہونے والی اور اس اجتمائی تباہی کے سارے جملہ ھتیار صدام حسین نے عراق میں اکھٹے کر رکھے ہیں۔ ہم نے تب بھی کہا تھا اور آج بھی وہی الفاظ دہراتے ہیں۔ امریکن ایجنسیاں اور حکومت اپنے شرمناک مقاصد حاصل کرنے کے لئیے سایوں کو وجود عطا کرتے ہیں۔ اور انہوں نے ہمارے ممالک میں اور آجکل خاص کر پاکستان میں مذکورہ طبقے میں ایسے لوگوں کو خرید رکھا ہے۔ جو مسلمانوں کو دن رات یہ باور کرانے میں مصروف ہیں کہ خدا نخواستہ اسلام اور مسلمانوں کا وجود محض ایک سایے سے بڑھ کر نہیں۔ اور اس سارے کھیل میں امریکہ ، بھارت، اسرائیل اور ان کے خرید کردہ اسلامی ہونے کا تاثر دینے والے پاکستانی ایجینٹس  تو شامل ہیں ہی بلکہ پاکستان کا ایک سنجیدہ طبقہ، زرادری حکومت اور اس میں شامل کچھ وزراء کو بھی شک کی نظر سے دیکھنے لگا ہے ، کہ کہیں یہ بھی تو اس گندے کھیل میں شامل نہیں کہ پاکستان میں لوگ اسلام سے الرجک ہو جائیں، اس پروپگنڈے کے لئیے کچھ اس سائیٹفک طریقے سے کام کیا جارہا ہے کہ یوں لگتا ہے جیسے مسلمان وحشی اور درندے ہوں اور افضل لوگ صرف وہ ہیں جو طاغونی طاقتوں کی تقلید میں مادر پدر آزاد ہیں۔اور اچھے خاصی سوجھ بوجھ رکھنے والے لوگ  اس پروپگنڈہ کا شکار نظر آتے ہیں جبکہ عام آدمی تو کسی کھاتے میں ہی نہیں۔ اور اس پروپگنڈہ مہم چلانے کو یہ لوگ سطحی نہیں لیتے، بلکہ اس کام کے لئیے باقاعدہ ساینٹیفک تیاری کی جاتی ہے۔ جس میں فلموں، ڈراموں، قصوں کہانیوں، فرضی ذاتی واقعات، افواہوں، کالموں۔  وقفے وقفے سے شعیہ، سنی، وہابی وغیرہ مسالک کو باہم گھتم گھتا کروا کر، پھر فرقہ وارانہ وارداتوں میں ملوث قاتلوں، غنڈوں اور جرائم پیشہ لوگوں کو جن کا اسلام یا اسلامی اخلاق سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔ ان کو کھلی چھوٹ دیکر تانکہ وہ مذھب کے نام پہ مذید قتل و غارت کریں اور عام آدمی مجموعی طور پہ دین سے دور ہو ۔  اسلام کے نام پہ کم عقل اور جاہل لوگوں کے ہاتھوں خواتین کی بے حرمتی کے واقعات کو بڑھا چڑھا کر میڈیا میں بار بار پیش کر کے۔  نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یا قرآنِ کریم کے  مبینہ شاتموں کو بپھرے ہوئے ھجوم کے ھاتوں مارے جانے پہ بے گناہ ثابت کر کے ہر صورت مسلمانوں کا میڈیا ٹرائل ۔۔ اور اسطرح کے بہت سے بے شمار حربے ایسے ہیں جن سے عام مسلمانوں کو دین سے دور کرنے کی کوشش کی شعوری کوشش کی جارہی ہے۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>میں افضل صاحب ۔ آج کی دنیا کا طُرّہ امتیاز یہی ہے کہ وہ سطحی نقطے پکڑ کر یلغار کر دیتی ہے اورایسی کہ اصل آنکھوں اور ذہن دونوں سے ماؤف ہو جائے ۔ اور اسے پھر وہ اپنی فتح قرار دیں۔۔۔۔۔افتخار اجمل بھوپال</p>
<p>محترم اجمل صاحب۔ داڑھی، باعمل مسلمانوں اور اسلام کو سطحی طور پہ لیکر چڑھائی نہیں کر دیتا۔ بلکہ مسلمانوں کو بدنام اور اسلام سے متعلق پورے طرزِ زندگی کو ( خواہ وہ اسلامی لباس ہو ، پردہ و حجاب ہو، داڑھی ہو، سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا معاملہ ہو۔ الغرض اسلام سے متعلق کوئی بھی مسئلہ ہو یا اسلام کی تقلید کرنے والوں کا ذکر ہو)  ایک خاص طبقہ انتہائی مہارت و عیاری اور باقاعدہ سانٹیفک طریقے سے ۔ اسلام سے اپنا بغض نکالنا شروع کردیتا ہے اور کوئی موقع ایسا نہیں جانے دیتا جس سے مسلمانوں کا دل نہ دکھے۔اور عام آدمی شعوری یا لاشعروی طور پہ اسلام سے برگشتہ نہ ہو۔ پاکستان میں  پچھلے کچھ سالوں سے اس گندے اور گھناؤنے کھیل میں بہت شدت آئی ہے۔یہ مخصوص طبقہ اپنے عقل میں اسلام اور مسلمانوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش کر رہا ہے۔ </p>
<p>سالوں پہلے جب بش سنئیر اور بش جونئیرنے عراق پہ شرمناک چڑھائی کے لئیے ساری دنیا کو جھوٹ کا وہ پروپگنڈا کیا تھا خاصکر یوروپ امریکہ میں عراق کے حق میں بات کرنے پہ عام آدمی مرنے مارے پہ تُل جاتے تھے۔ دنیا کو یوں باور کرایا گیا کہ ساری دنیا کی تباہی ہونے والی اور اس اجتمائی تباہی کے سارے جملہ ھتیار صدام حسین نے عراق میں اکھٹے کر رکھے ہیں۔ ہم نے تب بھی کہا تھا اور آج بھی وہی الفاظ دہراتے ہیں۔ امریکن ایجنسیاں اور حکومت اپنے شرمناک مقاصد حاصل کرنے کے لئیے سایوں کو وجود عطا کرتے ہیں۔ اور انہوں نے ہمارے ممالک میں اور آجکل خاص کر پاکستان میں مذکورہ طبقے میں ایسے لوگوں کو خرید رکھا ہے۔ جو مسلمانوں کو دن رات یہ باور کرانے میں مصروف ہیں کہ خدا نخواستہ اسلام اور مسلمانوں کا وجود محض ایک سایے سے بڑھ کر نہیں۔ اور اس سارے کھیل میں امریکہ ، بھارت، اسرائیل اور ان کے خرید کردہ اسلامی ہونے کا تاثر دینے والے پاکستانی ایجینٹس  تو شامل ہیں ہی بلکہ پاکستان کا ایک سنجیدہ طبقہ، زرادری حکومت اور اس میں شامل کچھ وزراء کو بھی شک کی نظر سے دیکھنے لگا ہے ، کہ کہیں یہ بھی تو اس گندے کھیل میں شامل نہیں کہ پاکستان میں لوگ اسلام سے الرجک ہو جائیں، اس پروپگنڈے کے لئیے کچھ اس سائیٹفک طریقے سے کام کیا جارہا ہے کہ یوں لگتا ہے جیسے مسلمان وحشی اور درندے ہوں اور افضل لوگ صرف وہ ہیں جو طاغونی طاقتوں کی تقلید میں مادر پدر آزاد ہیں۔اور اچھے خاصی سوجھ بوجھ رکھنے والے لوگ  اس پروپگنڈہ کا شکار نظر آتے ہیں جبکہ عام آدمی تو کسی کھاتے میں ہی نہیں۔ اور اس پروپگنڈہ مہم چلانے کو یہ لوگ سطحی نہیں لیتے، بلکہ اس کام کے لئیے باقاعدہ ساینٹیفک تیاری کی جاتی ہے۔ جس میں فلموں، ڈراموں، قصوں کہانیوں، فرضی ذاتی واقعات، افواہوں، کالموں۔  وقفے وقفے سے شعیہ، سنی، وہابی وغیرہ مسالک کو باہم گھتم گھتا کروا کر، پھر فرقہ وارانہ وارداتوں میں ملوث قاتلوں، غنڈوں اور جرائم پیشہ لوگوں کو جن کا اسلام یا اسلامی اخلاق سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔ ان کو کھلی چھوٹ دیکر تانکہ وہ مذھب کے نام پہ مذید قتل و غارت کریں اور عام آدمی مجموعی طور پہ دین سے دور ہو ۔  اسلام کے نام پہ کم عقل اور جاہل لوگوں کے ہاتھوں خواتین کی بے حرمتی کے واقعات کو بڑھا چڑھا کر میڈیا میں بار بار پیش کر کے۔  نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یا قرآنِ کریم کے  مبینہ شاتموں کو بپھرے ہوئے ھجوم کے ھاتوں مارے جانے پہ بے گناہ ثابت کر کے ہر صورت مسلمانوں کا میڈیا ٹرائل ۔۔ اور اسطرح کے بہت سے بے شمار حربے ایسے ہیں جن سے عام مسلمانوں کو دین سے دور کرنے کی کوشش کی شعوری کوشش کی جارہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: یاسر عمران مرزا</title>
		<link>http://www.mypakistan.com/?p=3692&#038;cpage=1#comment-26577</link>
		<dc:creator>یاسر عمران مرزا</dc:creator>
		<pubDate>Tue, 27 Oct 2009 14:22:28 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.mypakistan.com/?p=3692#comment-26577</guid>
		<description>افضل صاحب، یہی نقطہ نظر میرا ہے اور ایسی سوچی سمجھی سازشوں کے وجود سے بھلا کیسے انکار ممکن ہے جب آج کے دور میں مسلمان کا دھرتی پر جینا دوبر کردیا گیا ہے، لیکن بیشتر احباب یہ سمجھتے ہیں کہ دراصل خود کش بمبار مسلمانوں میں سے ہیں، یا مسلمان ان کو تیار کر رہے ہیں، اور ایسے ذہن یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ اسلام کے خلاف سازش ہے، جب یہ لوگ بات کرتے ہیں تو باعمل مسلمانوں کو ان دہشت گردوں سے جوڑ دیتے ہیں جو کہ اینٹی اسلام قوتوں کے تحت کام کر رہے ہیں۔ اور اگر کوئی ان سازشوں کی نشاندہی کرے تو وہ بھی انہی دہشت گردوں میں سے ایک قرار دے دیا جاتا ہے۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>افضل صاحب، یہی نقطہ نظر میرا ہے اور ایسی سوچی سمجھی سازشوں کے وجود سے بھلا کیسے انکار ممکن ہے جب آج کے دور میں مسلمان کا دھرتی پر جینا دوبر کردیا گیا ہے، لیکن بیشتر احباب یہ سمجھتے ہیں کہ دراصل خود کش بمبار مسلمانوں میں سے ہیں، یا مسلمان ان کو تیار کر رہے ہیں، اور ایسے ذہن یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ اسلام کے خلاف سازش ہے، جب یہ لوگ بات کرتے ہیں تو باعمل مسلمانوں کو ان دہشت گردوں سے جوڑ دیتے ہیں جو کہ اینٹی اسلام قوتوں کے تحت کام کر رہے ہیں۔ اور اگر کوئی ان سازشوں کی نشاندہی کرے تو وہ بھی انہی دہشت گردوں میں سے ایک قرار دے دیا جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: افتخار اجمل بھوپال</title>
		<link>http://www.mypakistan.com/?p=3692&#038;cpage=1#comment-26575</link>
		<dc:creator>افتخار اجمل بھوپال</dc:creator>
		<pubDate>Tue, 27 Oct 2009 09:58:25 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.mypakistan.com/?p=3692#comment-26575</guid>
		<description>افضل صاحب ۔ آج کی دنیا کا طُرّہ امتیاز یہی ہے کہ وہ سطحی نقطے پکڑ کر یلغار کر دیتی ہے اورایسی کہ اصل آنکھوں اور ذہن دونوں سے ماؤف ہو جائے ۔ اور اسے پھر وہ اپنی فتح قرار دیں</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>افضل صاحب ۔ آج کی دنیا کا طُرّہ امتیاز یہی ہے کہ وہ سطحی نقطے پکڑ کر یلغار کر دیتی ہے اورایسی کہ اصل آنکھوں اور ذہن دونوں سے ماؤف ہو جائے ۔ اور اسے پھر وہ اپنی فتح قرار دیں</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: فرحان دانش</title>
		<link>http://www.mypakistan.com/?p=3692&#038;cpage=1#comment-26574</link>
		<dc:creator>فرحان دانش</dc:creator>
		<pubDate>Tue, 27 Oct 2009 05:32:31 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.mypakistan.com/?p=3692#comment-26574</guid>
		<description>ایک مچھلی پورے تالاب کو گندا کرتی ہے۔ طالبان نہ ایسا کرتے نا ایسا ہوتا۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>ایک مچھلی پورے تالاب کو گندا کرتی ہے۔ طالبان نہ ایسا کرتے نا ایسا ہوتا۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
</channel>
</rss>
