<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
		>
<channel>
	<title>Comments on: عورتوں کو گھورنا &#8211; آخری قسط</title>
	<atom:link href="http://www.mypakistan.com/?feed=rss2&#038;p=873" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.mypakistan.com/?p=873</link>
	<description></description>
	<lastBuildDate>Tue, 07 Sep 2010 08:04:21 +0000</lastBuildDate>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.0.1</generator>
	<item>
		<title>By: جاوید گوندل ، بآرسیلونا ۔ اسپین</title>
		<link>http://www.mypakistan.com/?p=873&#038;cpage=1#comment-25453</link>
		<dc:creator>جاوید گوندل ، بآرسیلونا ۔ اسپین</dc:creator>
		<pubDate>Thu, 09 Jul 2009 14:04:26 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.mypakistan.com/?p=873#comment-25453</guid>
		<description>واہ سبحان اللہ!

اسلام میں وہ شادی شادی نہیں تصور کیا جاتی وہ نکاح ہی باطل ہوتا ہے جسکی بنیاد محض جنسی تسکین ہو۔ چہ جائیکہ اس بارے میں شادی کے بعد مر د اور عورت دونوں کے کے لئیے ایک دوسرے کو خوش رکھنے کے احکامات ہیں اور احادیث نبی (صلی اللہ علیہ وسلم)   میں بھی عورتوں اور مردوں کو نکاح کے بعد ایک دوسرے کو خوش رکھنے کی تاکید ہے۔مگر وہ نکاح باطل ہوجاتا ہے جسکی بنیاد محض جنسی تسکین ہو۔

مجھے یہ پوسٹ پڑھ کر حیرت ہوئی ہے۔ خواتین کو گھورنا گندی ذہنیت کی وجہ سے ہے۔ نا کہ جنسی تسکین سے۔ حضرتِ انسان کو جانور نہیں کہ عورت دیکھی اور ۔۔ عورت بُو ، عورت بُو کے نعرے لگاتے اسکے پیچھت بھاگ پڑے۔ 

محترم افضل صاحب۔ آپ نے ایک سیدھے سادھے مسعلے کو جسنی تسکین سے جوڑ دیا ہے۔ یہ فارمولا مغرب میں تو لاگو ہوتا ہے کہ وہ جنس اور جنسی فعل سے سنِ بلوغت سے ہی متعارف ہوجاتے ہیں۔ مگر ایک ایسے معاشرے میں جہاں کسی خاتون کو گھورنے پہ بعض اوقات مرنے مارنے کی نوبت آجاتی ہو۔ ایسے معاشرے میں تو نو عمر بیاہتا کئی جوڑوں کو آج بھی شادی کے بعد مباشرت کے بارے میں صحیح علم نہیں ہوتا۔ لڑکا تو دوست احباب سے کچھ نہ کچھ معلومات حاصل کر لیتا ہے مگر لڑکی بے چاری کو اگر کئی اسکی بڑی بہن یا رشتے دار عوت شادی سے عین کچھ دن پہلے کچھ باتیں نہ سمجھائے تو کئی مسائل اٹھتے ہیں۔

جہاں تک غیر عورتوں کو گھورنا ہے ۔ اسکا تعلق ، خواہ وہ کوئی لڑکا ہو یا شادی شدہ مرد، ایسے لوگ ایک طرح سے بیمار ذہنیت کے مالک ہوتے ہیں۔ایسے مرد حضرات کا تعلق انتہائی گری ہوئی اور کمینی فطرت سے ہوتا ہے۔ اور عموما اسطرح کے لوگ زندگی کے کسی بھی میدان میں قابل اعتماد نہیں ہوتے۔ جو لوگ اپنے ماں باپ کی حلال اولاد ہیں وہ اسطرح کی گندی اور نیچی حرکت نہیں کرتے اور اگر انھیں شیطان کبھی بھٹکائے بھی تو اگلے لمحے سر جھٹک کر شیطان پہ لعنت بیھج دیتے ہیں۔

گھورنے سے شیطانی جنسی تسکین نہیں ہوتی بلکہ اس سے جنسی جزبات مزید بھڑکتے ہیں۔ جنگل میں، خلوت میں تو جنسی جذبات بھڑک جائیں تو پارسا انسان بھی جنسی بھوک کے ہاتھوں زنا جیسے گناہِ کبیرہ کا ارتکاب کرسکتا ہے۔ مگر بازار میں آتی جاتی خواتیں کوگھورنے سے کونسی جنسی تسکین ہوتی ہے؟۔ یہ بیمار اور گندی فطرت کی غمازی ہے۔

اور ضروری نہیں کہ ہر کسی کا اپنا ذاتی تجربہ ہی معاشرے کی درست عکاسی ہو۔

اپنی اولاد کو شر و بد کی قوت کا مقابلہ کرنے کے لئیے نیک اخلاق سکھائیں۔ انکی اچھی تربیت کریں۔ اچھے برے کا فرق سمجھائیں ۔ وہ انشاءاللہ کبھی اسطرح کی گندی عادتوں میں ملوث نہیں ہونگے۔ خواتین کو گھورنا بہت بعد کی بات ہے۔


ہمارے ہاں ایک عام خیال یہ بھی ہے کہ اگر اپنے گھر میں مائیں بہینیں ہیں تو دوسروں کی ماؤں بہنوں کو بھی عزت تکریم سے دیکھنا چاھئیے۔ یہ خیال انتہائی فرسودہ اور احمقانہ ہے۔ اسمیں کوئی شک نہیں کہ جس گھر میں بیٹی اور بہن ہوں وہاں گھر والے سانس بھی آہستہ لیتے ہیں۔کیونکہ ہمارے ہاں بیٹی اور بہن کے مقدس رشتے کو شرفاء کی کمزوری سمجھ لیا گیا ہے۔ مگرخواتین کو گھورنے یا نہ گھورنے کے لئیے ضروری نہیں کہ گھر میں بہن یا بیٹی ہی تو یہ کام نہیں کرنا چاہئیے ۔ بلکہ بنیادی خیال یہ ہونا چاھئیے کہ چونکہ یہ کام غیر شرعی ہے ۔ غیر اخلاقی ہے۔ اور بیمار ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے اسلئیے اس سے مرد حضرات کو اس سے اجتناب کرنا چاہئیے۔

اسلام میں اپنی عصمت کی حفاظت مردوں پہ بھی اتنی ہے لازمی ہے۔ جتنی عورتوں پہ لازم ہے۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>واہ سبحان اللہ!</p>
<p>اسلام میں وہ شادی شادی نہیں تصور کیا جاتی وہ نکاح ہی باطل ہوتا ہے جسکی بنیاد محض جنسی تسکین ہو۔ چہ جائیکہ اس بارے میں شادی کے بعد مر د اور عورت دونوں کے کے لئیے ایک دوسرے کو خوش رکھنے کے احکامات ہیں اور احادیث نبی (صلی اللہ علیہ وسلم)   میں بھی عورتوں اور مردوں کو نکاح کے بعد ایک دوسرے کو خوش رکھنے کی تاکید ہے۔مگر وہ نکاح باطل ہوجاتا ہے جسکی بنیاد محض جنسی تسکین ہو۔</p>
<p>مجھے یہ پوسٹ پڑھ کر حیرت ہوئی ہے۔ خواتین کو گھورنا گندی ذہنیت کی وجہ سے ہے۔ نا کہ جنسی تسکین سے۔ حضرتِ انسان کو جانور نہیں کہ عورت دیکھی اور ۔۔ عورت بُو ، عورت بُو کے نعرے لگاتے اسکے پیچھت بھاگ پڑے۔ </p>
<p>محترم افضل صاحب۔ آپ نے ایک سیدھے سادھے مسعلے کو جسنی تسکین سے جوڑ دیا ہے۔ یہ فارمولا مغرب میں تو لاگو ہوتا ہے کہ وہ جنس اور جنسی فعل سے سنِ بلوغت سے ہی متعارف ہوجاتے ہیں۔ مگر ایک ایسے معاشرے میں جہاں کسی خاتون کو گھورنے پہ بعض اوقات مرنے مارنے کی نوبت آجاتی ہو۔ ایسے معاشرے میں تو نو عمر بیاہتا کئی جوڑوں کو آج بھی شادی کے بعد مباشرت کے بارے میں صحیح علم نہیں ہوتا۔ لڑکا تو دوست احباب سے کچھ نہ کچھ معلومات حاصل کر لیتا ہے مگر لڑکی بے چاری کو اگر کئی اسکی بڑی بہن یا رشتے دار عوت شادی سے عین کچھ دن پہلے کچھ باتیں نہ سمجھائے تو کئی مسائل اٹھتے ہیں۔</p>
<p>جہاں تک غیر عورتوں کو گھورنا ہے ۔ اسکا تعلق ، خواہ وہ کوئی لڑکا ہو یا شادی شدہ مرد، ایسے لوگ ایک طرح سے بیمار ذہنیت کے مالک ہوتے ہیں۔ایسے مرد حضرات کا تعلق انتہائی گری ہوئی اور کمینی فطرت سے ہوتا ہے۔ اور عموما اسطرح کے لوگ زندگی کے کسی بھی میدان میں قابل اعتماد نہیں ہوتے۔ جو لوگ اپنے ماں باپ کی حلال اولاد ہیں وہ اسطرح کی گندی اور نیچی حرکت نہیں کرتے اور اگر انھیں شیطان کبھی بھٹکائے بھی تو اگلے لمحے سر جھٹک کر شیطان پہ لعنت بیھج دیتے ہیں۔</p>
<p>گھورنے سے شیطانی جنسی تسکین نہیں ہوتی بلکہ اس سے جنسی جزبات مزید بھڑکتے ہیں۔ جنگل میں، خلوت میں تو جنسی جذبات بھڑک جائیں تو پارسا انسان بھی جنسی بھوک کے ہاتھوں زنا جیسے گناہِ کبیرہ کا ارتکاب کرسکتا ہے۔ مگر بازار میں آتی جاتی خواتیں کوگھورنے سے کونسی جنسی تسکین ہوتی ہے؟۔ یہ بیمار اور گندی فطرت کی غمازی ہے۔</p>
<p>اور ضروری نہیں کہ ہر کسی کا اپنا ذاتی تجربہ ہی معاشرے کی درست عکاسی ہو۔</p>
<p>اپنی اولاد کو شر و بد کی قوت کا مقابلہ کرنے کے لئیے نیک اخلاق سکھائیں۔ انکی اچھی تربیت کریں۔ اچھے برے کا فرق سمجھائیں ۔ وہ انشاءاللہ کبھی اسطرح کی گندی عادتوں میں ملوث نہیں ہونگے۔ خواتین کو گھورنا بہت بعد کی بات ہے۔</p>
<p>ہمارے ہاں ایک عام خیال یہ بھی ہے کہ اگر اپنے گھر میں مائیں بہینیں ہیں تو دوسروں کی ماؤں بہنوں کو بھی عزت تکریم سے دیکھنا چاھئیے۔ یہ خیال انتہائی فرسودہ اور احمقانہ ہے۔ اسمیں کوئی شک نہیں کہ جس گھر میں بیٹی اور بہن ہوں وہاں گھر والے سانس بھی آہستہ لیتے ہیں۔کیونکہ ہمارے ہاں بیٹی اور بہن کے مقدس رشتے کو شرفاء کی کمزوری سمجھ لیا گیا ہے۔ مگرخواتین کو گھورنے یا نہ گھورنے کے لئیے ضروری نہیں کہ گھر میں بہن یا بیٹی ہی تو یہ کام نہیں کرنا چاہئیے ۔ بلکہ بنیادی خیال یہ ہونا چاھئیے کہ چونکہ یہ کام غیر شرعی ہے ۔ غیر اخلاقی ہے۔ اور بیمار ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے اسلئیے اس سے مرد حضرات کو اس سے اجتناب کرنا چاہئیے۔</p>
<p>اسلام میں اپنی عصمت کی حفاظت مردوں پہ بھی اتنی ہے لازمی ہے۔ جتنی عورتوں پہ لازم ہے۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: محمد افضل</title>
		<link>http://www.mypakistan.com/?p=873&#038;cpage=1#comment-22325</link>
		<dc:creator>محمد افضل</dc:creator>
		<pubDate>Mon, 17 Dec 2007 14:44:25 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.mypakistan.com/?p=873#comment-22325</guid>
		<description>اللہ کے بندو اگر شادی نہیں کر سکتے ہو تو شریعت کے حکم کے مطابق روزے رکھو اور ایک اچھا مسلمان روزے کی حالت میں کبھی بھی کسی عورت کی طرف گھور گھور کر نہیں دیکھے گا۔ مزید یہ ہے کہ اپنی زندگی کو اسان اور سادہ بنا لینے سے بہت سارے مسلے ختم ہو جاتے ہیں۔
ہر چیز میں توازن ہی ایک بہتر حل ہوتا ہے۔ نہ مغرب کی طرح مادر پدر آزادی بہتر ہے اور نہ ہی ایسی صورت حال کہ بندہ نکاح بھی نہ کر سکے۔اور کم عمری کی شادی میں مسائل زیادہ اور فوائد تھوڑے ہیں۔ لہذا شادی کے لیے لڑکے کی عمر کم از کم ۲۰ سال ہونی چاہیے۔
یہاں پر ایک اور بات بھی مد نظر رکھنی چاہیے کہ اسلام کی نظر میں شادی صرف جنسی تسکین کے لیے ہی نہی ہے بلکہ اس میں کچھ اور بھی حقوق و فرائض بھی ہیں۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>اللہ کے بندو اگر شادی نہیں کر سکتے ہو تو شریعت کے حکم کے مطابق روزے رکھو اور ایک اچھا مسلمان روزے کی حالت میں کبھی بھی کسی عورت کی طرف گھور گھور کر نہیں دیکھے گا۔ مزید یہ ہے کہ اپنی زندگی کو اسان اور سادہ بنا لینے سے بہت سارے مسلے ختم ہو جاتے ہیں۔<br />
ہر چیز میں توازن ہی ایک بہتر حل ہوتا ہے۔ نہ مغرب کی طرح مادر پدر آزادی بہتر ہے اور نہ ہی ایسی صورت حال کہ بندہ نکاح بھی نہ کر سکے۔اور کم عمری کی شادی میں مسائل زیادہ اور فوائد تھوڑے ہیں۔ لہذا شادی کے لیے لڑکے کی عمر کم از کم ۲۰ سال ہونی چاہیے۔<br />
یہاں پر ایک اور بات بھی مد نظر رکھنی چاہیے کہ اسلام کی نظر میں شادی صرف جنسی تسکین کے لیے ہی نہی ہے بلکہ اس میں کچھ اور بھی حقوق و فرائض بھی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: ميرا پاکستان</title>
		<link>http://www.mypakistan.com/?p=873&#038;cpage=1#comment-22302</link>
		<dc:creator>ميرا پاکستان</dc:creator>
		<pubDate>Sun, 09 Dec 2007 10:59:36 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.mypakistan.com/?p=873#comment-22302</guid>
		<description>بدتمیز ٕنام کۓ صاحب تصیح کا شکریہ۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>بدتمیز ٕنام کۓ صاحب تصیح کا شکریہ۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: بدتمیز</title>
		<link>http://www.mypakistan.com/?p=873&#038;cpage=1#comment-22301</link>
		<dc:creator>بدتمیز</dc:creator>
		<pubDate>Sun, 09 Dec 2007 10:00:13 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.mypakistan.com/?p=873#comment-22301</guid>
		<description>آپ کی باتوں سے حسب توفیق متفق ہوں۔ 
حضرت عمر نے فوجیوں‌ کی بیویوں سے نہیں اپنی بیٹی حضرت اسما سے پوچھ کر یہ حد مقرر کی تھی جو کہ تین ماہ نہیں بلکہ چار ماہ تھی۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>آپ کی باتوں سے حسب توفیق متفق ہوں۔<br />
حضرت عمر نے فوجیوں‌ کی بیویوں سے نہیں اپنی بیٹی حضرت اسما سے پوچھ کر یہ حد مقرر کی تھی جو کہ تین ماہ نہیں بلکہ چار ماہ تھی۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: راشد کامران</title>
		<link>http://www.mypakistan.com/?p=873&#038;cpage=1#comment-22295</link>
		<dc:creator>راشد کامران</dc:creator>
		<pubDate>Sat, 08 Dec 2007 18:51:09 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.mypakistan.com/?p=873#comment-22295</guid>
		<description>اس سلسلے میں، میں‌ آپ کے تجویز کردہ حل سے متفق بھی ہوں لیکن جیسا کے آپ نے کہا کے ہمارے معاشرے میں زنا آسان اور نکاح مشکل بنا دیا گیا ہے اور پھر خواتین کے حقوق کی علمبردار خواتین ہی جلد شادی کی حامی نظرنہیں آتی ہیں۔۔ دوسری چیز یہ  کے ایک تاثر اور ابھر کر سامنے آتا ہے جیسے جنسی خواہش صرف مرد کے ساتھ مخصوص ہے؟‌ ایسا تو نہیں ہے جنسی خواہش کی تسکین تو مرد و عورت میں کم و بیش یکساں ہی ہے تو پھر خواتین گھورنے کا فریضہ کیوں انجام نہیں دیتیں (عموما نہیں گھورتیں لیکن اگر کوئی مرد انہیں نہ گھورے یا دیکھے تو اسے مغرور کا خطاب ضرور عطا کر دیتی ہیں)‌ ۔۔ پھر ہمارے یہاں (خصوصا بر صغیر میں‌)‌ دوسری شادی کرنے کو انتہائی معیوب فعل سمجھا جانے لگا ہے کیا اس سے بھی کچھ سماجی برائیاں معاشرے میں جنم نہیں لے رہیں اور یہ بات تو اب ثابت شدہ ہے کہ بھارت کے علاوہ تقریبا تمام جگہوں پر خواتین مردوں سے زیادہ ہیں تو کچھ نہ کچھ لوگوں کو تو ایک سے زیادہ عورتوں سے شادی کرنی ہی ہوگی؟ خواتین اس سلسلے میں کیا نقطہ نظر رکھتی ہیں ؟ اور کیا اس سے گھورنے کی یا عورتوں کو تنگ کرنے کی عادت پر کچھ قابو پایا جاسکتا ہے؟‌</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>اس سلسلے میں، میں‌ آپ کے تجویز کردہ حل سے متفق بھی ہوں لیکن جیسا کے آپ نے کہا کے ہمارے معاشرے میں زنا آسان اور نکاح مشکل بنا دیا گیا ہے اور پھر خواتین کے حقوق کی علمبردار خواتین ہی جلد شادی کی حامی نظرنہیں آتی ہیں۔۔ دوسری چیز یہ  کے ایک تاثر اور ابھر کر سامنے آتا ہے جیسے جنسی خواہش صرف مرد کے ساتھ مخصوص ہے؟‌ ایسا تو نہیں ہے جنسی خواہش کی تسکین تو مرد و عورت میں کم و بیش یکساں ہی ہے تو پھر خواتین گھورنے کا فریضہ کیوں انجام نہیں دیتیں (عموما نہیں گھورتیں لیکن اگر کوئی مرد انہیں نہ گھورے یا دیکھے تو اسے مغرور کا خطاب ضرور عطا کر دیتی ہیں)‌ ۔۔ پھر ہمارے یہاں (خصوصا بر صغیر میں‌)‌ دوسری شادی کرنے کو انتہائی معیوب فعل سمجھا جانے لگا ہے کیا اس سے بھی کچھ سماجی برائیاں معاشرے میں جنم نہیں لے رہیں اور یہ بات تو اب ثابت شدہ ہے کہ بھارت کے علاوہ تقریبا تمام جگہوں پر خواتین مردوں سے زیادہ ہیں تو کچھ نہ کچھ لوگوں کو تو ایک سے زیادہ عورتوں سے شادی کرنی ہی ہوگی؟ خواتین اس سلسلے میں کیا نقطہ نظر رکھتی ہیں ؟ اور کیا اس سے گھورنے کی یا عورتوں کو تنگ کرنے کی عادت پر کچھ قابو پایا جاسکتا ہے؟‌</p>
]]></content:encoded>
	</item>
</channel>
</rss>
