<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
		>
<channel>
	<title>Comments on: مدرسوں کا ماحول &#8211; تصویر کا دوسرا رخ</title>
	<atom:link href="http://www.mypakistan.com/?feed=rss2&#038;p=918" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.mypakistan.com/?p=918</link>
	<description></description>
	<lastBuildDate>Tue, 07 Sep 2010 08:04:21 +0000</lastBuildDate>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.0.1</generator>
	<item>
		<title>By: ثاقب</title>
		<link>http://www.mypakistan.com/?p=918&#038;cpage=1#comment-22615</link>
		<dc:creator>ثاقب</dc:creator>
		<pubDate>Thu, 14 Feb 2008 20:20:24 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.mypakistan.com/?p=918#comment-22615</guid>
		<description>السلام علیکم
اصل میں‌اگر دیکھا جائے تو ہمیں‌ یہ معلوم ہوتا ہے کہ مدارسہ والوں نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ ہم ڈاکٹر یا انجنئیر بنا رہے ہیں وہ تو دعویٰ اس بات کا کرتے ہیں کہ وہ اپنے ادارے میں علمائے دین بنا رہے ہیں اور ان سے اس بات کا مطالبہ بھی بے جا ہے
اگر حقیقت حال کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نہ مولوی کو روٹی کا مسئلہ ہے نہ ہی وہ بیس پچیس لاکھ لگا کرڈاکٹر بننے کے بعد پانچ ہزار کی ہاؤس جاب تلاش کر رہا ہے اور نہ ہی ہم یہ اخبار میں پڑھتے ہیں‌ کہ آج فلاں مولوی نے نوکری نہ ملنے کی وجہ سے خود کشی کرلی ہے اس طرح‌ کے سارے مسائل ہم دنیوی تعلیم یافتہ افراد کے بارے میں ہی دیکھتے ہیں 
اگر آپ کو اس بات کا موقع ملے تو یہ بھی دیکھ لیں کہ جتنا بجٹ یونیورسٹیوں پر خرچ ہوتا ہے اور جتنی ان کی فیسیں ہوتی ہیں‌ کیا وہ عالمی معیار کے مطابق گریجویٹ تیار کررہے ہیں تو جواب یقینا نہیں میں ہی ملتا ہے اس کے مقابلے میں اگر آپ مدارس کے علماء کو دیکھیں گے تو ان میں‌ ہی آپ کو بہت بڑے بڑے نام بھی ملیں‌ گے جن کے کام کو عالمی لیول پر سراہا جاتا ہے تصنیفات کے حوالے سے دیکھیں گے تو ہمیں وہاں‌ پر بھی علماء پیچھے نہیں نظر آئیں گےجدید پیش آنے والے فقہی مسائل ہوں‌ یا عربی علوم کو اپنی قومی زبان میں منتقل کرنے کا کام ہو یا بے شمار اور موضوعات 
میں تو یہ سمجھتا ہوں‌ کہ اگر مدارس نہ کام کر رہے ہوں‌ تو پھر جو رہا سہا اسلام پہ عمل ہمارے ملک میں ہے وہ بھی نہیں رہے گا جہاں کے پارلیمنٹرین حضرات کو قرآن کے پاروں‌کی تعداد کا بھی پتہ نہ ہو۔

آخر میں قرآن کی اس آیت کی طرف آپ کی توجہ دلا کر علمائے دین کی قدر و قیمت بتلانا مقصود ہے۔
إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ 
بے شک اللہ کے بندوں‌ میں‌ سے صاحب علم ہی اس سے ڈرتے ہیں 

اللہ ہمیں اتفاق اور اتحاد نصیب فرمائے اور دوسروں کی عیب چینی سے ہمیں بچائے

والسلام</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>السلام علیکم<br />
اصل میں‌اگر دیکھا جائے تو ہمیں‌ یہ معلوم ہوتا ہے کہ مدارسہ والوں نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ ہم ڈاکٹر یا انجنئیر بنا رہے ہیں وہ تو دعویٰ اس بات کا کرتے ہیں کہ وہ اپنے ادارے میں علمائے دین بنا رہے ہیں اور ان سے اس بات کا مطالبہ بھی بے جا ہے<br />
اگر حقیقت حال کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نہ مولوی کو روٹی کا مسئلہ ہے نہ ہی وہ بیس پچیس لاکھ لگا کرڈاکٹر بننے کے بعد پانچ ہزار کی ہاؤس جاب تلاش کر رہا ہے اور نہ ہی ہم یہ اخبار میں پڑھتے ہیں‌ کہ آج فلاں مولوی نے نوکری نہ ملنے کی وجہ سے خود کشی کرلی ہے اس طرح‌ کے سارے مسائل ہم دنیوی تعلیم یافتہ افراد کے بارے میں ہی دیکھتے ہیں<br />
اگر آپ کو اس بات کا موقع ملے تو یہ بھی دیکھ لیں کہ جتنا بجٹ یونیورسٹیوں پر خرچ ہوتا ہے اور جتنی ان کی فیسیں ہوتی ہیں‌ کیا وہ عالمی معیار کے مطابق گریجویٹ تیار کررہے ہیں تو جواب یقینا نہیں میں ہی ملتا ہے اس کے مقابلے میں اگر آپ مدارس کے علماء کو دیکھیں گے تو ان میں‌ ہی آپ کو بہت بڑے بڑے نام بھی ملیں‌ گے جن کے کام کو عالمی لیول پر سراہا جاتا ہے تصنیفات کے حوالے سے دیکھیں گے تو ہمیں وہاں‌ پر بھی علماء پیچھے نہیں نظر آئیں گےجدید پیش آنے والے فقہی مسائل ہوں‌ یا عربی علوم کو اپنی قومی زبان میں منتقل کرنے کا کام ہو یا بے شمار اور موضوعات<br />
میں تو یہ سمجھتا ہوں‌ کہ اگر مدارس نہ کام کر رہے ہوں‌ تو پھر جو رہا سہا اسلام پہ عمل ہمارے ملک میں ہے وہ بھی نہیں رہے گا جہاں کے پارلیمنٹرین حضرات کو قرآن کے پاروں‌کی تعداد کا بھی پتہ نہ ہو۔</p>
<p>آخر میں قرآن کی اس آیت کی طرف آپ کی توجہ دلا کر علمائے دین کی قدر و قیمت بتلانا مقصود ہے۔<br />
إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ<br />
بے شک اللہ کے بندوں‌ میں‌ سے صاحب علم ہی اس سے ڈرتے ہیں </p>
<p>اللہ ہمیں اتفاق اور اتحاد نصیب فرمائے اور دوسروں کی عیب چینی سے ہمیں بچائے</p>
<p>والسلام</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: اجمل</title>
		<link>http://www.mypakistan.com/?p=918&#038;cpage=1#comment-22548</link>
		<dc:creator>اجمل</dc:creator>
		<pubDate>Sun, 10 Feb 2008 07:51:17 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.mypakistan.com/?p=918#comment-22548</guid>
		<description>دینی مدرسوں یا دوسرے تعلیمی اداروں پر حکومتی کنٹرول بہتری لانے کی ضمانت نہیں ہے ۔ ان سب کو درست کرنے کیلئے عوام کا رجحان خودغرضی کی بجائے بہتری کی طرف ہونا ضروری ہے ۔ بڑے شہروں میں دو قسم کے دینی مدرسے ہیں ۔ ایک میں تعلیمی معیار اچھا ہے اور دوسرے میں نہیں ۔ خُوبی یا قصور ان لوگوں کا ہے جو ان مدرسوں کو چلاتے ہیں یا چندہ دیتے ہیں ۔ کراچی میں جامعہ علوم الاسلامیہ العالمیہ ۔ بنوری ٹاؤن کے پڑھے طلباء نے دنیاوی تعلیم میں بھی نام پیدا کیا ہے ۔ وہ جوان جس نے اپنی عمدہ اور دلیرانہ تقریر سے ہمارے ملک کے مطلق العنان حکمران کو پریشان کیا اسی مدرسہ کا طالب علم ہے ۔ اس کا نام ہے عدنان کاکا خیل ۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>دینی مدرسوں یا دوسرے تعلیمی اداروں پر حکومتی کنٹرول بہتری لانے کی ضمانت نہیں ہے ۔ ان سب کو درست کرنے کیلئے عوام کا رجحان خودغرضی کی بجائے بہتری کی طرف ہونا ضروری ہے ۔ بڑے شہروں میں دو قسم کے دینی مدرسے ہیں ۔ ایک میں تعلیمی معیار اچھا ہے اور دوسرے میں نہیں ۔ خُوبی یا قصور ان لوگوں کا ہے جو ان مدرسوں کو چلاتے ہیں یا چندہ دیتے ہیں ۔ کراچی میں جامعہ علوم الاسلامیہ العالمیہ ۔ بنوری ٹاؤن کے پڑھے طلباء نے دنیاوی تعلیم میں بھی نام پیدا کیا ہے ۔ وہ جوان جس نے اپنی عمدہ اور دلیرانہ تقریر سے ہمارے ملک کے مطلق العنان حکمران کو پریشان کیا اسی مدرسہ کا طالب علم ہے ۔ اس کا نام ہے عدنان کاکا خیل ۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: ميرا پاکستان</title>
		<link>http://www.mypakistan.com/?p=918&#038;cpage=1#comment-22527</link>
		<dc:creator>ميرا پاکستان</dc:creator>
		<pubDate>Sat, 09 Feb 2008 10:56:30 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.mypakistan.com/?p=918#comment-22527</guid>
		<description>بڑے شہروں کی حد تک راشد صاحب کی بات ٹھیک لگتی ہے مگر چھوٹے شہروں اور قصبوں میں‌ان مدرسوں کی حالت اچھی نہیں‌۔
شاکر صاحب کی بات بھی درست ہے مگر پہلے یہ دیکھا جائے کہ حکومت کی نیت بھی درست ہے کہ نہیں۔ یعنی حکومت مدرسوں پر کنٹرول حاصل کرکے ان سے بہتر نتائج حاصل کرنا چاہتی ہے یا پھر اپنے انگریز آقاؤں کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے معاشرے کو اسلام سے مزید دور کرنے کی کوششیں تیز کردیتی ہے۔ ویسے فی الحال گورنمنٹ سکولوں‌ کی موجودہ حالت کو اگر دیکھا جائے تو حکومتی کنٹرول کی دلیل کمزور پڑ جاتی ہے۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>بڑے شہروں کی حد تک راشد صاحب کی بات ٹھیک لگتی ہے مگر چھوٹے شہروں اور قصبوں میں‌ان مدرسوں کی حالت اچھی نہیں‌۔<br />
شاکر صاحب کی بات بھی درست ہے مگر پہلے یہ دیکھا جائے کہ حکومت کی نیت بھی درست ہے کہ نہیں۔ یعنی حکومت مدرسوں پر کنٹرول حاصل کرکے ان سے بہتر نتائج حاصل کرنا چاہتی ہے یا پھر اپنے انگریز آقاؤں کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے معاشرے کو اسلام سے مزید دور کرنے کی کوششیں تیز کردیتی ہے۔ ویسے فی الحال گورنمنٹ سکولوں‌ کی موجودہ حالت کو اگر دیکھا جائے تو حکومتی کنٹرول کی دلیل کمزور پڑ جاتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: محمد شاکر عزیز</title>
		<link>http://www.mypakistan.com/?p=918&#038;cpage=1#comment-22523</link>
		<dc:creator>محمد شاکر عزیز</dc:creator>
		<pubDate>Sat, 09 Feb 2008 06:05:16 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.mypakistan.com/?p=918#comment-22523</guid>
		<description>مدارس پر حکومت کا کنٹرول ہونا چاہیے۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>مدارس پر حکومت کا کنٹرول ہونا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: راشد کامران</title>
		<link>http://www.mypakistan.com/?p=918&#038;cpage=1#comment-22514</link>
		<dc:creator>راشد کامران</dc:creator>
		<pubDate>Fri, 08 Feb 2008 17:54:50 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.mypakistan.com/?p=918#comment-22514</guid>
		<description>میں آپ کی اس بات سے متفق نہیں کے مدرسوں کے پاس فنڈز کی کمی ہے ۔ تمام نہیں مگر اکثر خاص طور پر کراچی کے شہری علاقوں میں قائم مدرسوں کا جائزہ لیں تو انکی صرف عمارتیں ہی اس وقت اربوں روپے کی قیمت رکھتی ہیں۔ اسکے علاوہ مخیر حضرات کی جانب سے سال میں کثیر تعداد میں فنڈز بھی آتے ہیں لیکن انکا استعمال غالبا تعلیم کے فروغ کے بجائے مسلک بازی اور دوسری غیر تعمیری سرگرمیوں پر ہوتا ہے۔ مدرسوں کے مہتمم حضرات کے ٹھاٹھ باٹھ دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔۔ بلکہ مجھے یاد ہے کے ہمارے محلے کی مسجد اور مدرسے میں کوئی 15 سال پہلے مہتمم صاحب لاکھوں روپے کا غبن کر کے بھاگے تھے اور یہ لاکھوں روپے محلے کو لوگوں کے ہی دیے ہوئے تھے۔ شاید مدرسے کی تعلیمی پسماندگی کی وجہ کچھ اور ہے جس کو فی الفور دور کرنے کی ضرورت ہے</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>میں آپ کی اس بات سے متفق نہیں کے مدرسوں کے پاس فنڈز کی کمی ہے ۔ تمام نہیں مگر اکثر خاص طور پر کراچی کے شہری علاقوں میں قائم مدرسوں کا جائزہ لیں تو انکی صرف عمارتیں ہی اس وقت اربوں روپے کی قیمت رکھتی ہیں۔ اسکے علاوہ مخیر حضرات کی جانب سے سال میں کثیر تعداد میں فنڈز بھی آتے ہیں لیکن انکا استعمال غالبا تعلیم کے فروغ کے بجائے مسلک بازی اور دوسری غیر تعمیری سرگرمیوں پر ہوتا ہے۔ مدرسوں کے مہتمم حضرات کے ٹھاٹھ باٹھ دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔۔ بلکہ مجھے یاد ہے کے ہمارے محلے کی مسجد اور مدرسے میں کوئی 15 سال پہلے مہتمم صاحب لاکھوں روپے کا غبن کر کے بھاگے تھے اور یہ لاکھوں روپے محلے کو لوگوں کے ہی دیے ہوئے تھے۔ شاید مدرسے کی تعلیمی پسماندگی کی وجہ کچھ اور ہے جس کو فی الفور دور کرنے کی ضرورت ہے</p>
]]></content:encoded>
	</item>
</channel>
</rss>
