Send As SMS

Friday, December 30, 2005

نئي لوکيشن

يہ بلاگ اب نئي لوکيشن پر شفٹ ہو گيا ہے۔ نيا پتہ يہ ہے
www.mypakistan.com

اس تردد کيلۓ معاف کيجۓ گا اور اميد ہے آپ کو نئي لوکيشن پسند آۓ گي۔ اپني راۓ سے ضرور آگاہ کيجۓ گا۔

Wednesday, December 14, 2005

صدر مشرّف - تاحيات حکمران

آج کراچي کے دورے کو دوران ايک اخبار نويس نے جب صدر مشرّف سے يہ سوال کيا کہ اگر آپ نے کالاباغ ڈيم کي منظوري دے دي ، اس پر کام شروع کرد يا اور آپ کي حکومت چلي گئ تو؟ ہو سکتا ہے اگلي آنے والے حکومت سياسي دباؤ ميں آکراس منصوبے کو ختم کردے۔ آپ کو پتہ ہے صدر مشرّف نے کيا جواب ديا؟ انہوں نے کہا کہ جب تک کالا باغ ڈيم مکمل نہيں ہو جاۓ گا ہم حکومت ميں رہيں گے۔
اس جواب ميں صدر نے اشارے سے يہ بتا ديا کہ وہ تاحيات پاکستان کے حکمران رہيں گے اور سياستدان بشمول حزبِ اختلاف کے اس شک ميں نہ رہيں کہ اگلے انتخابات ميں وہ وردي اتار ديں گے يا کبھي وہ صدارت کي کرسي چوڑيں گے۔ يہ خيال ہم نے اس حقيقت سے اخز کيا ہے جس کي طرف صدر نے اشارہ کيا ہے۔ ان کو معلوم ہے کہ کالا باغ ڈيم کبھي نہيں بنے گا۔
اس کا سيدھا سا مطلب ہے کہ نہ کالاباغ ڈيم بنے گا اور نہ صدر صاحب کرسي چھوڑيں گے۔

Monday, December 12, 2005

ایشین بمقابلہ یورپین ہاکی اسٹائل

یہ ۱۹۷۰ کے عشرے کی بات ہے جب ایشین ہاکی کی برتری ختم کرنے کیلۓ یورپ نے مصنوعی گھاس کی گراؤنڈ متعارف کروائی اور وہ اپنی اس کاوش میں کامیاب بھی رہے۔ حیرانی اس بات پر ہے کہ نہ انڈیا اور نہ ہی پاکستان نے اس فیصلے پراحتجاج کیا۔ اس سے پہلے تقریبا ہر ٹورنامنٹ کا فائنل زیادہ تر انڈیا اور پاکستان میں ہوا کرتے تھے۔ جب میچ آسٹروٹرف پر کھیلے جانے لگے تو پھر پاکستان اور انڈیا کی ہاکی زوال پزیر ہونے لگی۔ اس زوال کی سب سے بڑی وجہ ہمارے ہاں آسٹروٹرف کی نایابی تھی۔ شروع میں تو یہ ٹرف تھی ہی بڑی مہنگی اور اسی وجہ سے کافی عرصہ تک پاکستان یہ ٹرف خرید ہی نہ سکا۔ پھر خدا خدا کرکے پہلی ٹرف کراچی شہر میں بچھائی گئ اور لاہور کی ٹرف بچھانے میں بھی کافی عرصہ لگا۔
سیدھی سی بات ہے کہ جب پاکستان میں آسٹروٹرف پر کھیلنے کے مواقع محدود ہوں گے اور زیادہ تر پاکستانی قدرتی گھاس پر ہاکی کھیلیں گے تو وہ مصنوعی گھاس پر اپنا اصل کھیل نہیں دکھا سکیں گے۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ اس کھیل نے بھی غریبی امیري کے فرق کو واضح کر دیا۔ اگر ہم یہ کہیں کہ یورپ نے اپنی دولت کی بنا پر فیلڈ ہاکی میں برتری حاصل کی تو اس میں کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہۓ۔
یہی وجہ ہے کہ پچھلے گیارہ سال میں پاکستان صرف ازلان شاہ ہاکی تورنامنٹ میں گولڈ میدل حاصل کرسکا ہے۔ موجودہ انڈیا میں کھیلی جارہی چیمپین ٹرافی میں بھی پاکستانی ہاکی ٹیم اب تک کوئی خاص کاکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکی۔ آج کے میچ میں بھی پاکستانی ہاکی ٹیم کی کارکردگی انڈیا کے خلاف کوئی خاص نہیں رہی۔ سارے کھیل میں یہی لگ رہا تھا کہ ہماری ٹیم انٹرنیشنل ہاکی میچز کیلۓ تیار ہی نہیں۔ اس کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ سفارشی کھلاڑی ٹیم میں زیادہ ڈالے گۓ ہوں گے۔
پاکستانی ٹیم نے اگر دوبارہ ۱۹۷۰ والا مقام حاصل کرنا ہے تو پھر مندرجہ ذیل تجاویز پر عمل کرنا ہوگا۔
۱۔ پاکستان کے ہرشہر میں آسٹروٹرف بچھائی جاۓ اور ضلعی سطح پر سارے ٹورنامنٹ اسی مصنوعی گھاس کی گراؤنڈ پر کراۓ جائیں۔
۲۔ اگر ہر شہر میں مصنوعی گھاس والی گراؤنڈ مہیا نہیں کی جاسکتی تو پھر قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کو فل ٹائم ملازم رکھ کر روزانہ آسٹروٹرف پر پریکٹس کرائی جاۓ۔
۳۔ کیونکہ مصنوعی گھاس پر کھیلنے کیلۓ زیادہ قوت کی ضرورت ہوتی ہے اس لۓ کھلاڑیوں کی جسمانی صحت ان کی سیلیکشن کیلۓ ایک اہم بنیاد ہونی چاہۓٕ۔
۴۔ ورلڈ ہاکی فیڈریشن کو قائل کیا جاۓ کہ ہاکی کا کھیل دوبارہ قدرتی گھاس پر شروع کیا جاۓ۔
موجودہ حالات میں ہماری حکومت کے بس میں شائد ان تجاویز پر عمل کرنایاکروانا انتہائی مشکل ہوگا۔ اسلۓاس وقت کم ازکم ہم کھلاڑیوں کی سیلیکشن انصاف کیساتھ کی جاۓاور پھر ان کھلاڑیوں کی تربیت میں ٹیم ورک کا زیادہ خیال رکھا جاۓ۔ ہمارے زیادہ تر کھلاڑی انفرادی کھیل دکھانے کے چکر میں رہتے ہیں اسی لۓ ہمیں پاکستانی ٹیم میں تال میل اور پاسنگ کا فقدان نظر آتا ہے۔ ہمارے کھلاڑیوں کو یہ باور کرایا جاۓ کہ ایک کھلاڑی اکیلا گیارہ کھلاڑیوں کو کبھی بھی نہیں ہرا سکے گا ۔ اگر میچ جیتنا ہے تو پھر گیارہ کھلاڑیوں کو ایک ٹیم بن کر کھیلنا ہوگا۔

Sunday, December 11, 2005

قومي اسمبلي ميں دنگل

دو دن پہلے قومي اسمبلي کے اجلاس ميں جب ايم ايم اے کے قاري گل رحمان نے ان کے حلقے کيلۓ فنڈز دينے پر وزيرِاعظم کا شکريہ ادا کيا تو مسلم ليگ نواز گروپ کے اقليتي رکن بھيل نےانہيں درباري مولوي کہ کر مخاطب کيا۔ اس کے جواب ميں گل نے انہيں ہندو کہ کر چپ رہنے کو کہا۔ اس کے بعد وہي ہوا جو ہمارا سٹائل ہے يعني ہاتھا پائي اور گالي گلوچ۔
نہ قاري صاحب کا مزہب انہيں بد تميزي سے روک سکا اور نہ اقليتي رکن کو شرم آئي بازاري فقرہ کستے ہوۓ۔ اس کے بعد قومي اسمبلي کے سپيکر نے وڈيروں والي بات کرتے ہوۓ اجلاس برخاست کيا اور دونوں ارکان کو وارننگ دي کہ وہ آپس ميں صلح کرليں وگرنہ وہ ان کے خلاف کاروائي کريں گے۔ يہ سياسي ہتھيار لگتا ہے کام کر جاۓ گا اور قومي اسمبلي کي رکنيت سے معطلي کي دھمکي ان شیروں کو گيدڑ بننے پر مجبور کردے گي۔
ہونا تو يہ چاہۓ تھا کہ سپيکر اسمبلي اسي وقت اپنے اختيارات کا استعمال کرتے اور دونوں کي رکنيت معطل کرنے کے بعد ان کا کيس پوليس کے حوالے کرديتے۔ اس سے کم از کم دوسرے اراکين کو کان ہوجاتے اور مستقبل ميں اس طرح کي بدتميزي سے وہ گريز کرتے۔ مگر چونکہ يہ سب سياسي لوگ ہيں اور ايک دوسرے کا خيال رکھتے ہيں اسلۓ سب پردے کے پيچھے اس مسلے کو حل کرنے ميں جت گۓ ہيں۔
يہ لڑائي جھگڑے کي وائيت ہمارا قومي ورثہ ہے اور روزانہ ہم روز کے معمولات ميں اس کي کہيں نہ کيہں جھلک ديکھتے رہتے ہيں۔ اسي وجہ سے نہ عوام نے اس کے خلاف احتجاج کيا ہے اور نہ دوسرے ارکانِ اسمبلي نے ان کي سرزنش کي ہے بلکہ ہرکوئي صلح کرانے ميں لگا ہوا ہے۔
اگر ملک کي اتنے بڑے ادارے ميں ڈسپلن کا يہ حال ہے تو پھر باقي محکموں کاتو اللہ ہي حافظ ہے۔