نئي لوکيشن
يہ بلاگ اب نئي لوکيشن پر شفٹ ہو گيا ہے۔ نيا پتہ يہ ہے
www.mypakistan.com
اس تردد کيلۓ معاف کيجۓ گا اور اميد ہے آپ کو نئي لوکيشن پسند آۓ گي۔ اپني راۓ سے ضرور آگاہ کيجۓ گا۔
وطن کی کہانی ، وطن کی زبانی
يہ بلاگ اب نئي لوکيشن پر شفٹ ہو گيا ہے۔ نيا پتہ يہ ہے
آج کراچي کے دورے کو دوران ايک اخبار نويس نے جب صدر مشرّف سے يہ سوال کيا کہ اگر آپ نے کالاباغ ڈيم کي منظوري دے دي ، اس پر کام شروع کرد يا اور آپ کي حکومت چلي گئ تو؟ ہو سکتا ہے اگلي آنے والے حکومت سياسي دباؤ ميں آکراس منصوبے کو ختم کردے۔ آپ کو پتہ ہے صدر مشرّف نے کيا جواب ديا؟ انہوں نے کہا کہ جب تک کالا باغ ڈيم مکمل نہيں ہو جاۓ گا ہم حکومت ميں رہيں گے۔
یہ ۱۹۷۰ کے عشرے کی بات ہے جب ایشین ہاکی کی برتری ختم کرنے کیلۓ یورپ نے مصنوعی گھاس کی گراؤنڈ متعارف کروائی اور وہ اپنی اس کاوش میں کامیاب بھی رہے۔ حیرانی اس بات پر ہے کہ نہ انڈیا اور نہ ہی پاکستان نے اس فیصلے پراحتجاج کیا۔ اس سے پہلے تقریبا ہر ٹورنامنٹ کا فائنل زیادہ تر انڈیا اور پاکستان میں ہوا کرتے تھے۔ جب میچ آسٹروٹرف پر کھیلے جانے لگے تو پھر پاکستان اور انڈیا کی ہاکی زوال پزیر ہونے لگی۔ اس زوال کی سب سے بڑی وجہ ہمارے ہاں آسٹروٹرف کی نایابی تھی۔ شروع میں تو یہ ٹرف تھی ہی بڑی مہنگی اور اسی وجہ سے کافی عرصہ تک پاکستان یہ ٹرف خرید ہی نہ سکا۔ پھر خدا خدا کرکے پہلی ٹرف کراچی شہر میں بچھائی گئ اور لاہور کی ٹرف بچھانے میں بھی کافی عرصہ لگا۔
دو دن پہلے قومي اسمبلي کے اجلاس ميں جب ايم ايم اے کے قاري گل رحمان نے ان کے حلقے کيلۓ فنڈز دينے پر وزيرِاعظم کا شکريہ ادا کيا تو مسلم ليگ نواز گروپ کے اقليتي رکن بھيل نےانہيں درباري مولوي کہ کر مخاطب کيا۔ اس کے جواب ميں گل نے انہيں ہندو کہ کر چپ رہنے کو کہا۔ اس کے بعد وہي ہوا جو ہمارا سٹائل ہے يعني ہاتھا پائي اور گالي گلوچ۔