12/07/2005 07:00:00 PM|||میرا پاکستان|||آخرکار وزیرِ خزانہ اور وزیرِ اعظم شوکت عزیز نے اعتراف کر ہی لیا کہ پٹرولیم کمیٹی ایک فراڈ ہے اور جس مقصد کیلۓ یہ کمیٹی بنائی گئ تھی وہ پورا نہیں کیا جارہا۔ جب یہ کمیٹی بنائی گئ تو کہا گیا تھا کہ یہ عالمی مارکیٹ کی قیمتوں کا ہر پندرہ روز بعد جائزہ لیا کرے گی اور اس کے مطابق پاکستان میں تیل کی قیمتوں کا تعین کیا کرے گی۔ اس فراڈ کو چھپانے کیلۓ اس کمیٹی نے کئی دفعہ ماضی میں قیمتیں کم بھی کیں مگر براۓ نام۔ اب جب دنیا میں تیل کی قیمتیں بڑھنا شروع ہوئیں تو اس کمیٹی کو بھی پاکستان میں تیل کی قیمتیں بڑھانے کا بہانہ مل گيا اور ہر دفعہ قيمتوں ميں اضافے کي يہي وجہ بیان کی گئ کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ یہ بات بار بار صرف پٹرولیم کمیٹی ہی نے نہیں کہی بلکہ ہمارے وزیرِ اعظم بھی یہی کہتے رہے۔ اسی بہانے کا سہارا لے کر تیل کی قیمتیں پاکستان میں تیس فیصد سے بھی زیادہ بڑھا دی گئیں۔
اب جب عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوئیں تو ہم سمیت ساری حزبِ اختلاف اور عام پبلک نے بھی صداۓ احتجاج بلند کرنا شروع کردی مگر تیل کی قیمتيں کم نہ کی گئیں۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان کو زلزلے کی آفت نے آگھیرا اور اس معاملے کی طرف سے دھیان وقتی طور پر ہٹ گیا۔ اب جب حالات کچھ کچھ معمول پر آنا شروع ہوۓ ہیں تو حزبِ اختلاف نے پھر سے حکومت پر زور ڈالنا شروع کردیا ہےکہ تیل کی قیمتیں کم کی جائیں۔
آخرکار جب وزیرِ اعظم کو یقین ہو گیا کہ اس معاملے سے جان نہیں چھوٹے گی تو انہوں نے ڈھٹائی سے سرِعام یہ اعلان کر دیا کہ تیل کی قیمتیں کم نہیں کی جائیں گی اور اس کی توضیح یہ دی کہ پاکستان کا بجٹ خسارہ ساٹھ ارب روپے ہے اور تیل کی قیمتیں بڑھانے سے اس خصارے میں کمی ہوئی ہے لیکن خسارہ ابھي مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ اس لیۓ تیل کی قیمتیں کم نہیں کی جاسکتیں۔
مگر حکومت اس کاروبار میں سارے کا سارا منافع تو نہیں کمارہی بلکہ گیس کی بین الاقوامی کمپنیاں بھی اپنی جیبیں بھر رہی ہیں۔ یہ جو منافع ان گیس کمپنیوں کی جیبوں میں جارہا ہے اس میں ضرور حکومتی ارکان کا حصہ بھی شامل ہو گا۔ اور ہو سکتا ہے جتنا حکومت منافع کمارہی ہے اس سے زیادہ گیس کمپنیاں کما رہی ہوں۔ مگر حکومت کو عوام کے فائدے کی بجاۓ اپنے ذاتی فوائد درکار ہیں۔ اس ليۓ اسے پرواہ نہيں کہ کون مہنگائي کا شکار ہو رہا ہے۔
حکومت کو معلوم ہے کہ عوام اپنی اپنی الجھنوں کے شکار ہیں اور انہیں کوئی پرواہ نہیں کہ حکومت کیا کر رہی ہے۔ اسی لیۓ حکومت اپنی من مانی کر رہی ہے۔ مگر حکومت اپنا بجٹ کا خصارہ کم کرنے کیلۓ عوام کا خون ہی کیوں چوس رہی ہے۔ کیا وہ اپنے ذاتی اخراجات کم نہیں کر سکتی؟ اس سوال کا جواب صرف نہ میں ہی ہے کیونکہ عوام سوۓ ہوۓ ہیں اور وہ بھی افیم کھا کر۔
نوٹ - عثمان صاحب نے اس تحرير ميں جن غلطيوں کي نشاندہي کي ہے وہ ٹھيک کر دي گئيں ہيں۔
|||113387814346051236|||پٹرولیم کمیٹی فراڈ – اعترافِ جرم12/06/2005 12:16:00 AM|||میرا پاکستان|||یہ اشرف المخلوقات کی گھٹي ميں ہے کہ وہ دوسروں پر حاکم ہو اور ساری دنیا اس کی غلام ہو۔ ہم اگر اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو ہمیں ہر قسم کے مطلق العنان نظر آئیں گے۔ اپنے گھر میں دیکھیں کوئی نہ کوئی اپنی من مانی کر رہا ہوگا۔ اسی طرح محلے میں چوہدری، شاہ جي یا بدمعاش ہوگا جس کے کہنےپر سارا محلہ یک زبان ہو کر تسلیم بجا لاۓ گا۔ اس سے تھوڑا اوپر دیکھیں تو شہروں میں آپ کو لوگ ملیں گے جو ہر طرح کا رعب اور لالچ دے کر آپ کی مرضی پر مسلط ہوں گے۔
سرکاری ملازموں کے طور طریقے بھی کچھ مختلف نہیں اور وہ بھی چپڑاسی سے لیکر افسر تک اپنے دفتر میں بادشاہ ہوں گے اور عوام کو گھنٹوں اپنے دفتر سے باہر بٹھا کر اپنی روح کو تسکین پہنچاہتے رہیں گے۔
پھر صوبائی اور وفاقی لیول پر ہمارے حاکم مطلق العنانی کے زور پر ہمارے ہی ووٹوں سے ناخدا بن بیٹھیں گے اور ہمیں بھیڑ بکریوں کی طرح آگے لگاۓ رکھیں گے۔
اس سے ذرا اوپر اگر دیکھیں تو سپر پاور بھی وہی کچھ کر رہی ہیں جو غریب ملکوں کے ڈکٹیٹر کر رہے ہیں۔ جب سے روس کا بستر گول ہوا ہے دنیامیں ایک ہی سپر پاور ہے جو اب کسی کی پرواہ کۓ بغیر ہر فیصلہ اپنی مرضی کا دنيا پر ٹھونس رہی ہے۔ اگر اس سے کوئی غلطی ہو بھي جاتی ہے تو معزرت کی بجاۓ اس کو ضحیح ثابت کرنے کیلۓ دلیلوں پہ اتر آتی ہے۔ اس مطلق العنانی یا ڈکٹیٹرشپ کو ہم عالمی ڈکٹیٹرشپ کہ سکتے ہيں۔
جب سے اس عالمی ڈکٹیٹرشپ نے صرف اپنے فائدے کیلۓ دنیا کو جہنم بنانا شروع کیا ہے تب سے لوگوں نے یہ سوچنا شروع کر دیا ہے کہ طاقت کا توازن ہونا بہت ضروری ہے۔ یہی اصول دنیا کی بڑی بڑی مشہور شخصیات نے وضح کیا ہے اور یہی اصول دنیا کے ہر مزہب کی کتاب میں بیان ہوا ہے۔
اگر طاقت کا توازن نہیں ہو گا تو پھر زمین اپنے مرکز سے ہٹ جاۓ گی، جنگل سے جانور غائب ہو جائیں گے اور دنیا میں قیامت سے پہلے قیامت برپا ہو جاۓ گی۔ یہی توازن ہے جو انسان کے جسم کو صحتمند رکھتا ہے اور اس کے نظام کو سو سال تک متواتر بحال رکھتا ہے۔ یہی توازن دنیا کا سارا شمسی نظام چلاۓ جارہا ہے اور اگر کسی دن یہ توازن بگڑ گیا تو دنیا تباہ ہو جاۓ گی۔
اسی طرح مطلق العنانی کے مضر اثرات سے بچنے کیلۓ طاقت کا توازن ضروری ہے۔
اس توازن کو بگاڑنے میں ہمارا بھی ہاتھ ہے جب ہم نے ایک سپر پاور کے اشارے پر دوسری سپر پاور کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ پھر جب ہم سمجھنے لگے کہ یہ سب کچھ ہم نے کیا ہے تو ہمیں اس سپر پاور نے انارکی سے دوچار کردیا۔ اس کے بعد دہشت گردي نے ميدان مار ليا اور تب سے ہم اس سپر پاور کے کہنے پر لوگوں کو مار رہے۔
اب ہم اگر دنیا کا سکون واپس لانا چاہتے ہیں تو دنيا کو اس سپر پاور کے مقابلے میں ایک اور سپر پاور کھڑی کرنی ہوگی وگرنہ ہم يوں ہي بھیڑ بکریوں کی طرح دنیا میں ہانکے جاتے رہیںگے۔|||113381175382608126|||مطلق العنانی12/05/2005 04:44:00 PM|||میرا پاکستان|||پاکستان نے انگلينڈ کو موجودہ کرکٹ سيريز ميں دو صفر سے ہرا کر کئ ريکارڈ قائم کۓ ہيں مگر سب سے بڑا ريکارڈ يہ ہے کہ اس دفعہ پہلي بارجمعہ کي نماز کيلۓ لنچ کا وففہ بيس منٹ بڑھايا گيا حلانکہ يہ سراسر پاکستاني کرکٹ ٹيم کے مفاد ميں نہيں تھا اور شائيد اسي برکت سے پاکستاني کھلاڑيوں نے ناممکن کو ممکن کر دکھايا۔ سنا ہے کرکٹ ٹيم کے سارے کھلاڑي بمعہ شعيب اخترکےاب پانچوں نمازيں ميچ کے دوران باجماعت پڑھتے ہيں۔
ابھي زيادہ دير کي بات نہيں جب پاکستان کے حکمرانوں نے روشن خيالي کے زعم ميں رمضان کے مہينہ ميں کرکٹ سيريز کرا ڈالي اور پاکستاني کھلاڑيوں کو ميچ کے وقفوں کے دوران پاني پيتے ہوۓ بھي دکھايا جاتا رہا۔ يہ موجودہ ٹيم کے کھلاڑيوں کا دين سے لگاؤ ہے جو انہوں نے جمعہ کي نماز پڑھنے کي ايک نئ روائيت قائم کي ہے۔ اس سے پہلے تو پاکستاني کھلاڑي انگلينڈ کاؤنٹي کرکٹ کھيلنے کي وجہ سے کافي آزاد خيال مشہور ہوتے تھے ۔ ماڈرن لباس پہننا، جوا خانوں اور قحبہ خانوں ميں جانا ايک فيشن سمجھا جاتا تھا۔ اس سے پہلے ہم کتني دففہ سن چکے ہيں کہ کھلاڑي ميچ کي رات کلبوں اور جوا خانوں ميں ديکھے گۓ اور يہاں تک کہ گوريوں کے ساتھ ان کے سکينڈل بھي مشہور ہوۓ۔
اس سيريز کے آخري ميچ ميں کنيريا کي گگلي باؤلنگ کافي پرفيکٹ رہي اور اس نے انگلينڈ کے منجھے ہوۓ بلہ بازوں کو بوکھلا کر رکھ ديا۔ اس کے ساتھ شعيب اختر کي تير بہدف باؤلنگ نے باقي کسر پوري کردي ۔ جو ٹيم صرف دو کھلاڑيوں کے آؤٹ ہونے پر دو سو رن بنا چکي تھي وہ اڑھائي سو رنمکمل کرنے سے پہلے ہي ڈھير ہوگئ۔
پاکستان نے اٹھارہ سال بعد انگلينڈ کے خلاف سيريز جيتي ہے اور اب پاکستان ورلڈ رينکنگ ميں ساتويں پوزيشن سے چھلانگ لگا کر چوتھي پوزيشن پر آگيا ہے۔
اس سيريز کي خاص بات انظمام الحق کي مستقل مزاج بيٹنگ بھي تھي۔ شعيب اختر نے بھي کافي عرصے کے بعد سيريز وننگ باؤلنگ کي اور سب سے زيادہ وکٹيں حاصل کرکے ٹيم ميں اپني جگہ پکي کرلي۔
اگر ديکھا جوۓ تو ٹيم کي جيت ٹيم ورک کا کمال ہے۔ ہر کھلاڑي نے خلوصِ دل سے ميچ کھيلے اور وہ کارنامہ انجام ديا جس کا مدت سے انتظار تھا۔
اس مايوسي کے دور ميں خوشي کي چند گھڑياں پاکستانيوں کو مبارک ہوں اور دعا ہے کہ ايسي خوشياں ہميں سدا ملتي رہيں۔ آمين۔|||113369808092467678|||مسلمان کرکٹ ٹيم کي کاميابي12/04/2005 06:53:00 AM|||میرا پاکستان|||لڑکي نے ايف ايس سي کي اور ابھي اس کا داخلہ بھي بي ايس سي ميں نہيں ہوا تھا کہ اس نے والد کو ايک روقعہ تھما کر سارے گھر ميں کہرام پيدا کر ديا۔ اس نے اپني تحرير ميں والد صاحب کو مخاطب کرکے پہلے سارے عزيز و اقارب کے ماضي کو کھنگالا اور پھر والد کو بتايا کہ وہ اپنے پڑوسي سے محبت کرتي ہے اور اس سے شادي کرنا چاہتي ہے۔ اس نے والد صاحب کو بھي ان کي جواني کي نادانياں یاد کرائيں۔
اس کے والد صاحب يہ سن کر غصے ميں آگ بگولا ہوگۓ۔ پہلے انہوں نے اپني بيوي کولعنت ملامت کي کہ وہ بچي کا خيال نہ رکھ سکي اور پھر يہ الٹي ميٹم دے کر نوکري پر چلے گۓ کہ اس لڑکي کي جب تک شادي نہيں ہوگي وہ گھر نہيں آئيں گے۔ دراصل لڑکي کے والد صاحب سرکاري ملازم ہيں اور ہفتہ ميں ايک دن گھر کا چکر لگاتے ہيں اسطرح ان کے بچوں کي پرورش کي ذمہ داري ان کي بيوي اور والدن پر ہے۔ والد نے اس سارے معاملے کا ذمہ دار اپني بيوي اور والد صاحب کو ٹھرايا کيونکہ ان کے والد نے بچي کو لائق ہونے کي بنا پر اچھے سکول ميں داخل کرايا تھا اور اس سکول ميں کو ايجوکيشن تھي۔ والد کا خيال ہے کہ لڑکي کے کوايجوکيشن ميں پرھنے کي وجہ سے يہ ساري خرابي پيدا ہوئي۔
لڑکي جس لڑکے سے شادي کرنا چاہتي ہے وہ ابھي بھي طالبعلم ہے اور والدين کے پاس رہ رہا ہے۔ لڑکے کا والد انتہائي مکار اور کمينہ ہے ۔ وہ گلي ميں کھڑا ہو کر اپني بيوي کو گالياں ديتا ہے اور محلے والوں کے ساتھ بھي بد تميضي سے پيش آتا ہے۔ يہي ايک وجہ ہے کہ لڑکي کے سرپرست ادھر رشتہ نہيں کرنا چاہتے۔ لڑکے کا والد صرف اور صرف لڑکي والوں کي دولت اور سرکاري نوکري کے دبدبے سے مرعوب ہے اور لڑکے کي شادي ان کے ہاں کرکے معاشي اور ذاتي فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔
انہوں نے لڑکي کو يہ آفر بھي دي کہ وہ اس کي کسي اور سے شادي کرديتے ہيں مگر لڑکي بضد ہے کہ وہ اسي لڑکے سے شادي کرے گي کيونکہ وہ کسي اور کووہ حقيقي پيار نہ دے سکے گي جو اس کو دے سکتي ہے۔
اب لڑکي والوں کے پاس مندرجہ ذيل راستے ہيں۔
١۔ لڑکي کي شادي اسي لڑکے سے کردي جاۓ مگر اس کے بعد لڑکي اور اس کے سسرال والوں سے قطع تعلق کر ليا جاۓ۔
٢۔ لڑکي کي شادي زبردستي کہيں اور کر دي جاۓ
٣۔ لڑکي کو زہر دے کر مار ديا جاۓ
٤۔ اس گھر کو بيچ کر اس شہر سے کہیں اور منتقل ہو جائيں
اب آپ بتائيں کہ لڑکي والے کيا کريں؟|||113366243038391603|||مشورہ ديجۓ12/03/2005 03:32:00 AM|||میرا پاکستان|||جديد ٹيکنالوجي نے پچھلے پندرہ سال سے دنيا ہي بدل کر رکھ دي ہے۔ اس ترقي کا سارا سہرا کمپيوٹر کي ايجاد ہے ۔ اس کمپيوٹر نے جہاں معلومات کو کوزے ميں بند کرکے رکھ دي ديا ہے وہاں مواصلاتي تظام بھي آسان اور سستا کرديا ہے۔
کہاں پہلے ہم معلومات کيلۓ لائبريريوں کے چکر کاٹا کرتے تھے اب گھر بيٹھے ہر قسم کا مواد اکٹھا کر ليتے ہيں۔ کہاں پہلے ہم خط لکھ کر ہفتوں جواب کا انتظار کيا کرتے تھے اور اب آن لائن بات ہو جاتي ہے۔ ايک وقت تھا جب پورے محلے ميں ايک ٹيليفون ہوتا تھا اب موبائل فون ہر آدمي کے پاس نظر آتا ہے۔ پہلے عالمي خبر دنوں ميں ہم تک پہنچتي تھي اب ہر واقعہ ہم براہِ راست ديکھ سکتے ہيں۔
جہاں اس ٹيکنالوجي نے زندگي ميں بہت ساري سہوليات فراہم کي ہيں وہاں اس کا غلط استعمال بہت سارے مسائل بھي پيدا کر رہا ہے۔ يہ مسائل ترقي پزير ممالک ميں زيادہ ہيں کيونکہ يہ ممالک اتني بڑي اچانک تبديلي کيلۓ تيار نہيں تھے۔
ايک وہ وقت تھا جب عاشقي محلوں تک محدود تھي يا پھر يونيورسٹي جانے کے بعد اس تک رسائي ہو پاتي تھي۔ مگر اب کمپيوٹر اور موبائل نے اس کاروبار کا حلقہ وسيع کر ديا ہے۔ اب تو تقريبا ہر جوان لڑکا يا لڑکي بڑي آساني سے ايک دوسرے کے ساتھ بات کر سکتے ہیں۔ اس آساني نے جہاں جنسِ مخالف کے ساتھ بات کرنے کي جھجھک ختم کي ہے وہاں بعض بيوقوف اور جلد باز عاشق مزاج نوجوانوں نے والديں کا جينابھي دو بھر کرديا ہے۔
معلومات کيلۓ انٹرنيٹ کيفے وجود میں آۓ تو عام آدمي بھي اس سے فائدہ اٹھانے لگا مگر اس کاروبار ميں غلط لوگ بھي داخل ہو گۓ اور انہوں نے نوجوانوں کو بے راہ روي پر بھي لگا ديا۔
اگر ہماري حکومت چاہتي تو ان سارے کاروباروں کو قوائد وضوبط کا پابند بناسکتي تھي اور ان قوائد بر عمل بھي کراسکتي تھي مگر اس ٹيکنالوجي نے چونکہ مغرب کو ايک نادر موقعہ فراہم کيا کہ وہ مشرقي روايات کو تباہ کرکے اسلام کي روح اس سے نکال سکے اسلۓ مغرب نے ہماري غدار حکومتوں کي حوصلہ افزائي کي اور ان کو اس ٹيکنالوجي کو کھلا چھوڑنے پر آمادہ کيا۔
اب ہماري حکومت روشن خيالي کے چکر ميں مادر پدرآزاد معاشرے کوہي ترقي کا راز سمجھتي ہے اسلۓ اس جديد ٹيکنالوجي کي خرابيوں کي طرف توجہ ہي نہيں دے رہي۔
ہماري حکومت کو چاہۓ کہ اس جديد ٹيکنالوجي کو قوم کو سنوارنے کيلۓ استعمال کرے نہ کہ گھر گھر ميں بے حيائي کو فروغ دينے کيلۓ۔
اس نازک دور ميں والدين کي ذمہ دارياں پہلے سے بہت بڑھ گئي ہيں کيونکہ اب ان کي ذرا سي غفلت ان کي اولاد کو تھوڑي سي مدت ميں ہي تباہ کردے گي۔ وہ وقت گۓ جب والدين نماز نہيں پڑھا کرتے تھے مگر اولاد کو مسجد قرآن مجيد پڑھنے کيلۓ ضرور بھيجا کرتے تھے۔ اب تو والديں اگر اولاد کي طرف توجہ نہيں ديں گے تو انٹرنيٹ اور موبائل وہ گل کھلائيں گے کہ پھران کا ازالہ مشکل ہو جاۓ گا۔
ہميں چاہۓ کہ اپنے بچوں کو پہلے تو اس جيد ٹيکنالوجي کي اچھائيوں برائيوں سے پوري طرح آگاہ کريں پھر ان کي حرکات پر نظر بھي رکھيں۔ اگر وہ ديکھيں کہ بچے کمپيوٹر پر فضول چيٹنگ ميں وقت ضائع کررہے ہيں تو انہيں سمجھائيں۔ کيونکہ يہي وقت ہے جس کو استعمال کرکے اگر نوجوان چاہيں گے تو اچھي زندگي کي شروعات کرسکيں گے ورنہ ساري عمر گليوں ميں ہي آوارہ گردي کرتے رہيں گے۔|||113356452840205287|||جديد ٹيکنالوجي اور ہم12/02/2005 03:40:00 AM|||میرا پاکستان|||دو دن پہلے ڈيم بنانے کي منظوري کيلۓ ميٹنگ بلانے کي خبر پڑھ کر جو خوشي ہوئي وہ ديرپا ثابت نہ ہوسکي کيونکہ آج کي خبر ہے کہ وہ ميٹنگ ملتوي کردي گئ ہے۔ سننے ميں يہ آيا ہے کہ ايک دفعہ پھر صدر مشرف اپنے ہي ہاتھوں سے بناۓ ہوۓ وزيروں کو ڈيم بنانے کي تجويز پر قائل نہيں کرسکے۔ پہلے يہ انديہ ديا گيا تھا کہ ملک ميں بڑا ڈيم بنانے کا فيصلہ بس اب ہوا کہ ہوا مگر ميٹنگ کے ملتوي ہونے پر معلوم ہوا کہ صدر مشرف بھي ہر فيصلہ کرنے ميں بااختيار نہيں ہيں اور وہ بھي سرکاري مسلم ليگ کے ہاتھوں ميں کھلونا بنے ہوۓ ہيں۔ دل نہيں مانتا کہ جو صدر نيٹو کي فوجوں کي موجودگي کے سوال پر يہ کہ سکتا ہے کہ ہم نے چوڑياں نہيں پہني ہوئيں کہ کوئي ہماري مرضي کے بغير ہمارے علاقے ميں داخل ہو سکے وہ پاکستان ميں ايک ڈیم بھي نہيں بنوا سکتا۔ اس بات سے تو يہي آثار نظر آرہے ہيں کہ شائد صدر مشرف وردي اتارنے کي تياري کر رہے ہيں اور اب سول صدر بننے کيلۓ سياستدانوں کے ہاتھوں کھلونا بن رہے ہیں۔
اب لگتا ہے صدرِ محترم بڑے بڑے فيصلے کرنے کي جرات سے محروم ہوتے جارہے ہيں اور ايسے کام کرنے لگے ہيں جو لوگ ريٹائر ہو کر کرتے ہيں۔ اب زيادہ سے زيادہ صدر مشرف کرسکتے ہيں تو اپني ماں کي فوٹو بچوں کي تصابي کتابوں ميں چھپوا سکتے ہيں اس سے زيادہ کچھ نہيں۔|||113347756571509104|||ڈيم کون بناۓ گا12/01/2005 03:53:00 AM|||میرا پاکستان|||آخرکار آج پٹروليم ايڈوائزري کميٹي کا اجلاس ہو ہي گيا مگر فائدہ کچھ نہيں ہوا کيونکہ کميٹي نے پٹروليم مصنوعات کي قيمتيں وہي رکھنے کا فيصلہ کيا مگر حيراني کي بات يہ ہے کہ اپنے فيصلے کي حمائيت ميں کوئي دليل نہيں دي ۔ اس سے قبل جب بھي قيمتيں بڑھائي گئيں تو يہ دليل دي جاتي رہي کہ عالمي مارکيٹ ميں قيمتيں بڑھ گئي ہيں۔ اور اب جب عالمي مارکيٹ ميں پٹوليم مصنوعات کي قيمتيں کم ہوئي ہيں تو نہ ہي کميٹي نے قيمتيں کم کيں اور نہ ہي قيمتيں برقرار رکھنے کي کوئي دليل دي۔
کہاں گۓ ہمارے وزير اور حکمران جو کميٹي کي حمائيت ميں تب آگے آگے ہوتے تھے جب قيمتيں بڑھائي جارہي ہوتي تھيں۔ اب جب قيمتيں کم کرنے کي باري آئي تو ان سب کو سانپ سونگھ گيا ہے۔ ہے کوئي قوم کا سچا خير خواہ جو اس مسلے کو قومي اسبلي يا سينيٹ ميں اٹھاۓ۔ اگر حکومت يہ کہتي ہے کہ يہ کميٹي صرف پرائيويٹ ہے اور حکومت کا اس سے کوئي تعلق نہيں تو پھر حکومت اس پر قيمتيں کم کرنے کا دباؤ کيوں نہيں ڈالتي۔ لگتا ہے سرکاري حکام بھي اس گھناؤنے کاروبار ميں برابر کے شريک ہيں۔ ميري سب سے گزارش ہے کہ وہ اپنے اپنے پليٹ فارم سے اس مسلے کو اٹھائيں اور اپني آواز حکمرانوں تک پہنچائيں۔ ہو سکتا ہے حکومت کو کچھ شرم آۓ اور وہ اس طرف غور کرے۔|||113339191938459907|||پٹروليم ايڈوائزري کميٹي - ايک فراڈ ۔ حصہ دوئم