May 16, 2008: : ميرا پاکستانسچی کہانیاں

بیس سال بعد ہماری اس سے ملاقات ہوئی تو ہم اس کو پینٹ کوٹ میں دیکھ کر حیران رہ گئے۔ پوچھنے پر پتہ چلا وہ اب واپڈا میں ایکس سی این ہے اور کروڑوں میں کھیل رہا ہے۔ دوپہر کا کھانا گھر سے چالیس میل دور لاہور کے ایک ہوٹل میں کھاتا ہے اور رات کا کھانا دوسرے ہوٹل میں۔ اس کے گھر میں کئی ملازم ہیں جو دن رات اس کی فیملی کی خدمت میں حاضر رہتے ہیں۔

وہ ہمارے ساتھ یونیورسٹي میں الیکٹریکل انجنئرنگ ميں داخل ہوا اور ہمارا روم میٹ بن گیا۔ وہ گاؤں سے پہلی دفعہ باہر نکلا تھا اسی لیے اسے کچھ دن تو یہ بھی پتہ نہ چل سکا کہ باتھ روم کا ٹائلٹ کیسے استعمال کرتے ہیں۔ کمرے میں وہ ہمیشہ ایک دھوتی اور بنیان پہنے رکھتا۔ کھانے کیلیے وہ دو روٹیاں تندور سے لاتا اور اچار یا کچے پیاز کیساتھ کھا لیتا۔ پڑھائی میں وہ بہت تیز تھا اور اسی وجہ سے اس نے انجنئرنگ کی ڈگری اچھے گریڈز میں حاصل کرلی۔

ایک دفعہ طالبعلمی کے زمانے میں اسے ہم نے ادھار دینے کی کوشش کی تاکہ وہ اپنی مالی ضروریات کو پورا کر سکے مگر اس نے مالی امداد ادھار کی شکل میں بھی لینے سے انکار کردیا۔  اس کا کہنا تھا وہ ہرحال میں جینے کا ہنر جانتا ہے اور جی کر دکھائے گا۔

گریجوایشن کے بعد اس کی قسمت کھل گئی اور واپڈا نے فریش گریجوایٹس کو دھڑا دھڑ بھرتی کرنا شروع کردیا۔ وہ ایس ڈی او بنا تو اس نے اپنے آپ کو پہلے روز سے ہی بدل لیا۔ اب وہ پانچ وقت کا سیدھا سادھا نمازی نہیں رہا تھا اور پینٹ شرٹ پہن کر کالا صاحب بن گیا۔ اس نے چاپلوسی کیلیے اپنے باس کے بچوں کو اس کے گھر جاکر پڑھانا شروع کردیا۔ اس کی یہ چال رنگ لائی اور وہ باس کا جوڑی دار بن گیا۔ اس کے بعد اس کا باس جہاں بھی گیا اسے ساتھ لے کر گیا۔ اس طرح اگلے دس سالوں میں دونوں نے دو دو ہاتھوں سے مال سمیٹا۔ وہ مال کماتا گیا اور جائیداد خریدتا گیا۔ اس کا بھائی جو میڑک سے آگے نہ پڑھ سکا تھا باس کی سفارش پر واپڈا میں ہی میٹر ریڈر لگ گیا۔

کرنا خدا کا ایسا ہوا کہ ایک روز اس کے باس کا ایکسیڈنٹ ہو گیا اور وہ اپنے بیوی بچوں سمیت اللہ کو پیارا ہو گیا۔ جب اس کے سر سے باس کا سایہ اٹھ گیا تو پھر اس کے برے دن شروع ہوگئے۔ اسے انکوائریوں میں الجھا کر او ایس ڈی لگا دیا گیا۔ اس کی یہ مصیبت کوئی پانچ سال اسے تنگ کرتی رہی۔ اس دوران اس نے واپڈا ہاؤس کا کلب جوائن کرلیا اور اس کی دوستی واپڈا کے ایک ممبر پاور سے ہوگئی۔ اس نے یہاں بھی چاپلوسی کی خاطر کچھ عرصہ ممبر پاور کے آگے جوے میں خوب دولت ہاری۔ جب اس نے ممبر پاور کا اعتماد بحال کرلیا تو پھر اس کی تمام انکوائریاں ختم کردی گئیں اور وہ آصف زرداری کی طرح ایسے ہی دوبارہ کلین ہو گیا جیسے آخری عمر میں مسلمان حج کرنے کے بعد اپنے آپ کو پاک صاف سمجھنے لگتا ہے۔

دوسرے دور میں اس نے پھر سے مال بنانے کی کوشش کی مگر آرمی کی مداخلت آڑے آئی کیونکہ اب ایس ڈی او کی بجائے آرمی آفیسروں نے جیبیں بھرنا شروع کردی تھیں۔ لیکن وہ چونکہ تجربہ کار تھا اسلیے اس نے جلد ہی فوجیوں سے بھی راہ و رسم بڑھا لی۔ اس کا بھائی جو اس کی مصیبت کے دوران گھر بھیج دیا گیا تھا دوبارہ بحال ہو گیا اور دونوں نے پھر سے مال بنانا شروع کر دیا۔ یہ سلسلہ فوج کے بیرکوں میں واپس لوٹنے کے بعد بھی جاری ہے۔ دونوں بھائیوں کے بچے ملک کے اعلٰٰی سکولوں اور کالجوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں اور وہ ٹھاٹھ کی زندگی گزار رہے ہیں۔

ہم نے اس ملاقات میں اسے اس کے باس کی موت کا حوالہ دے کر ڈرانے کی کوشش کی تو اس کا جواب تھا موت کے بعد کیا ہو گا کوئی نہیں جانتا۔  یعنی نوبت یہاں تک آچکی تھی کہ یہ نوولتیا دوسروں کی طرح سرے سے آخرت کا بھی انکاری ہوچکا تھا۔ وہ کہتا ہے جو مر گیا وہ آسمان پر چڑھ گیا یعنی جب تک جان ہے جہان ہے جب مرگئے تو بعد میں کیا ہو گا اس کی کس کو پرواہ ہے۔

May 15, 2008: : ميرا پاکستانحکومت

ارشاد احمد حقانی نے ایک مذہبی ہفت روزے میں ایک مراسلہ نگار ڈاکٹر مشتاق احمد صاحب کے لکھے ہوئے ایک مضمون سے چند اقتباسات پیش کئے جن میں مشکلات میں گھرے ہوئے ملک کے حکمرانوں کے لئے غور و فکر کا بڑا سامان ہے وہ عوام کو درپیش سنگین مسائل مثلاً مہنگائی، بیروزگاری، بجلی کی کمی اور دوسرے مسائل کو حل کرنے کا جو انداز بظاہر اپنا رہے ہیں اس سے عوام میں مایوسی پیدا ہو رہی ہے شاید زیر نظر مراسلے سے ان کی سوچ تبدیل کرنے میں کچھ مدد مل سکے ملاحظہ فرمایئے۔

 ”یہ 1973ء کی بات ہے۔ عربوں اور اسرائیل کے درمیان جنگ چھڑنے کو تھی۔ ایسے میں ایک امریکی سنیٹر ایک اہم کام کے سلسلے میں اسرائیل آیا۔ وہ اسلحہ کمیٹی کا سربراہ تھا۔ اسے فوراً اسرائیل کی وزیراعظم ”گولڈہ مائیر“ کے پاس لے جایا گیا۔ گولڈہ مائیر نے ایک گھریلو عورت کی مانند سنیٹر کا استقبال کیا اور اسے اپنے کچن میں لے گئی۔ یہاں اس نے امریکی سنیٹر کو ایک چھوٹی سی ڈائننگ ٹیبل کے پاس کرسی پر بٹھا کر چولہے پر چائے کے لئے پانی رکھ دیا اور خود بھی وہیں آ بیٹھی۔ اس کے ساتھ اس نے طیاروں، میزائلوں اور توپوں کا سودا شروع کر دیا۔ ابھی بھاؤ تاؤ جاری تھا کہ اسے چائے پکنے کی خوشبو آئی۔ وہ خاموشی سے اٹھی اور چائے دو پیالیوں میں انڈیلی۔ ایک پیالی سنیٹر کے سامنے رکھ دی اور دوسری گیٹ پر کھڑے امریکی گارڈ کو تھما دی۔ پھر دوبارہ میز پر آ بیٹھی اور امریکی سنیٹر سے محو کلام ہو گئی۔ چند لمحوں کی گفت و شنید اور بھاؤ تاؤ کے بعد شرائط طے پا گئیں۔ اس دوران گولڈہ مائیر اٹھی، پیالیاں سمیٹیں اور انہیں دھو کر واپس سنیٹر کی طرف پلٹی اور بولی ”مجھے یہ سودا منظور ہے۔ آپ تحریری معاہدے کے لئے اپنا سیکرٹری میرے سیکرٹری کے پاس بھجوا دیجئے۔ یاد رہے کہ اسرائیل اس وقت اقتصادی بحران کا شکار تھا، مگر گولڈہ مائیر نے کتنی ”سادگی“ سے اسرائیل کی تاریخ میں اسلحے کی خریداری کا اتنا بڑا سودا کر ڈالا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ خود اسرائیلی کابینہ نے اس بھاری سودے کو رد کر دیا۔ اس کا موقف تھا، اس خریداری کے بعد اسرائیلی قوم کو برسوں تک دن میں ایک وقت کھانے پر اکتفا کرنا پڑے گا۔ گولڈہ مائیر نے ارکان کابینہ کا موقف سنا اور کہا : ”آپ کا خدشہ درست ہے، لیکن اگر ہم یہ جنگ جیت گئے اور ہم نے عربوں کو پسپائی پر مجبور کر دیا تو تاریخ ہمیں فاتح قرار دیگی اور جب تاریخ کسی قوم کو فاتح قرار دیتی ہے، تو وہ بھول جاتی ہے کہ جنگ کے دوران فاتح قوم نے کتنے انڈے کھائے تھے اور روزانہ کتنی بار کھانا کھایا تھا۔ اسکے دستر خوان پر شہد، مکھن، جیم تھا یا نہیں اور ان کے جوتوں میں کتنے سوراخ تھے یا ان کی تلواروں کے نیام پھٹے پرانے تھے۔ فاتح صرف فاتح ہوتا ہے۔“ گولڈہ مائیر کی دلیل میں وزن تھا، لہٰذا اسرائیلی کابینہ کو اس سودے کی منظوری دینا پڑی۔ آنے والے وقت نے ثابت کر دیا کہ گولڈہ مائیر کا اقدام درست تھا اور پھر دنیا نے دیکھا، اسی اسلحے اور جہازوں سے یہودی عربوں کے دروازوں پر دستک دے رہے تھے۔ جنگ ہوئی اور عرب ایک بوڑھی عورت سے شرمناک شکست کھا گئے۔ جنگ کے ایک عرصہ بعد واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے نے گولڈہ مائیر کا انٹرویو لیا اور سوال کیا: ”امریکی اسلحہ خریدنے کے لئے آپ کے ذہن میں جو دلیل تھی، وہ فوراً آپ کے ذہن میں آئی تھی، یا پہلے سے حکمت عملی تیار کر رکھی تھی؟“ گولڈہ مائیر نے جو جواب دیا وہ چونکا دینے والا تھا۔ وہ بولی :”میں نے یہ استدلال اپنے دشمنوں (مسلمانوں) کے نبی (محمد ﷺ) سے لیا تھا، میں جب طالبہ تھی تو مذاہب کا موازنہ میرا پسندیدہ موضوع تھا۔ انہی دنوں میں نے محمد ﷺ کی سوانح حیات پڑھی۔ اس کتاب میں مصنف نے ایک جگہ لکھا تھا کہ جب محمد ﷺ کا وصال ہوا تو ان کے گھر میں اتنی رقم نہیں تھی کہ چراغ جلانے کے لئے تیل خریدا جا سکے، لہٰذا ان کی اہلیہ (حضرت عائشہ صدیقہ) نے ان کی زرہ بکتر رہن رکھ کر تیل خریدا، لیکن اس وقت بھی محمد ﷺ کے حجرے کی دیواروں پر نو تلواریں لٹک رہی تھیں۔ میں نے جب یہ واقعہ پڑھا تو میں نے سوچا کہ دنیا میں کتنے لوگ ہوں گے جو مسلمانوں کی پہلی ریاست کی کمزور اقتصادی حالت کے بارے میں جانتے ہوں گے لیکن مسلمان آدھی دنیا کے فاتح ہیں، یہ بات پوری دنیا جانتی ہے۔ لہٰذا میں نے فیصلہ کیا کہ اگر مجھے اور میری قوم کو برسوں بھوکا رہنا پڑے، پختہ مکانوں کی بجائے خیموں میں زندگی بسر کرنا پڑے، تو بھی اسلحہ خریدیں گے، خود کو مضبوط ثابت کریں گے اور فاتح کا اعزاز پائیں گے۔“ گولڈہ مائیر نے اس حقیقت سے تو پردہ اٹھایا، مگر ساتھ ہی انٹرویو نگار سے درخواست کی اسے ”آف دی ریکارڈ“ رکھا جائے اور شائع نہ کیا جائے۔ وجہ یہ تھی، مسلمانوں کے نبی کا نام لینے سے جہاں اس کی قوم اس کے خلاف ہو سکتی ہے، وہاں دنیا میں مسلمانوں کے موقف کو تقویت ملے گی۔ چنانچہ واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے نے یہ واقعہ حذف کر دیا۔ وقت دھیرے دھیرے گزرتا رہا، یہاں تک کہ گولڈہ مائیر انتقال کر گئی اور وہ انٹرویو نگار بھی عملی صحافت سے الگ ہو گیا۔ اس دوران ایک اور نامہ نگار، امریکہ کے بیس بڑے نامہ نگاروں کے انٹرویو لینے میں مصروف تھا۔ اس سلسلے میں وہ اسی نامہ نگار کا انٹرویو لینے لگا جس نے واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے کی حیثیت سے گولڈہ مائیر کا انٹرویو لیا تھا۔ اس انٹرویو میں اس نے گولڈہ مائیر کا واقعہ بیان کر دیا، جو سیرت نبوی ﷺسے متعلق تھا۔ اس نے کہا کہ اب یہ واقعہ بیان کرنے میں اسے کوئی شرمندگی محسوس نہیں ہو رہی ہے۔ گولڈہ مائیر کا انٹرویو کرنے والے نے مزید کہا: ”میں نے اس واقعے کے بعد جب تاریخ اسلام کا مطالعہ کیا، تو میں عرب بدوؤں کی جنگی حکمت عملیاں دیکھ کر حیران رہ گیا، کیونکہ مجھے معلوم ہوا کہ وہ طارق بن زیاد جس نے جبرالٹر (جبل الطارق) کے راستے اسپین فتح کیا تھا، اس کی فوج کے آدھے سے زیادہ مجاہدوں کے پاس پورا لباس نہیں تھا۔ وہ بہترّ بہترّ گھنٹے ایک چھاگل پانی اور سوکھی روٹی کے چند ٹکڑوں پر گزارا کرتے تھے۔ یہ وہ موقع تھا، جب گولڈہ مائیر کا انٹرویو نگار قائل ہو گیا کہ ”تاریخ فتوحات گنتی ہے، دستر خوان پر پڑے انڈے، جیم اور مکھن نہیں۔ “ گولڈہ مائیر کے انٹرویو نگار کا اپنا انٹرویو جب کتابی شکل میں شائع ہوا تو دنیا اس ساری داستان سے آگاہ ہوئی ۔ یہ حیرت انگیز واقعہ تاریخ کے دریچوں سے جھانک جھانک کر مسلمانان عالم کو جھنجھوڑ رہا ہے، بیداری کا درس دے رہا ہے، ہمیں سمجھا رہا ہے کہ ادھڑی عباؤں اور پھٹے جوتوں والے گلہ بان، چودہ سو برس قبل کس طرح جہاں بان بن گئے؟ ان کی ننگی تلوار نے کس طرح چار براعظم فتح کر لئے؟ اگر پُرشکوہ محلات، عالی شان باغات، زرق برق لباس، ریشم و کمخواب سے آراستہ و پیراستہ آرام گاہیں، سونے، چاندی، ہیرے اور جواہرات سے بھری تجوریاں، خوش ذائقہ کھانوں کے انبار اور کھنکھناتے سکوں کی جھنکار ہمیں بچا سکتی تو تاتاریوں کی ٹڈی دل افواج بغداد کو روندتی ہوئی معتصم باللہ کے محل تک نہ پہنچتی۔ آہ! وہ تاریخ اسلام کا کتنا عبرت ناک منظر تھا جب معتصم باللہ، آہنی زنجیروں اور بیڑیوں میں جکڑا، چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان کے سامنے کھڑا تھا۔ کھانے کا وقت آیا تو ہلاکو خان نے خود سادہ برتن میں کھانا کھایا اور خلیفہ کے سامنے سونے کی طشتریوں میں ہیرے اور جواہرات رکھ دیئے۔ پھر معتصم سے کہا: ”جو سونا چاندی تم جمع کرتے تھے اسے کھاؤ!“ بغداد کا تاج دار بے چارگی و بے بسی و بے کسی کی تصویر بنا کھڑا تھا، بولا: ”میں سونا کیسے کھاؤں؟“ ہلاکو نے فوراً کہا: ”پھر تم نے یہ سونا و چاندی جمع کیوں کیا تھا؟“ وہ مسلمان جسے اس کا دین ہتھیار بنانے اور گھوڑے پالنے کی ترغیب دیتا تھا، کچھ جواب نہ دے سکا۔ ہلاکو خان نے نظریں گھما کر محل کی جالیاں اور مضبوط دروازے دیکھے اور سوال کیا: ”تم نے ان جالیوں کو پگھلا کر آہنی تیرکیوں نہ بنائے؟ تم نے یہ جواہرات جمع کرنے کے بجائے اپنے سپاہیوں کو رقم کیوں نہ دی، تاکہ وہ جانبازی اور دلیری سے میری افواج کا مقابلہ کرتے۔“ خلیفہ نے تاسف سے جواب دیا ”اللہ کی یہی مرضی تھی۔“ ہلاکو خان نے کڑک دار لہجے میں کہا: ”پھر جو تمہارے ساتھ ہونے والا ہے، وہ بھی خدا کی مرضی ہو گی۔“ پھر ہلاکو خان نے معتصم باللہ کو مخصوص لبادے میں لپیٹ کر گھوڑوں کی ٹاپوں تلے روند ڈالا، بغداد کو قبرستان بنا ڈالا۔ ہلاکو خان نے کہا : ”آج میں نے بغداد کو صفحہٴ ہستی سے مٹا ڈالا ہے اور اب دنیا کی کوئی طاقت اسے پہلے والا بغداد نہیں بنا سکتی۔“ تاریخ تو فتوحات گنتی ہے۔ محل، لباس، ہیرے، جواہرات لذیز کھانے اور زیورات نہیں۔ اقبال کا یہ شعر کس قدر برمحل ہے:

 میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر امم کیا ہے

 شمشیر و سناں اول طاؤس و رباب آخر

May 13, 2008: : ميرا پاکستانادب, شخصیات

ابھی تک پاکستانی تاریخ میں اگر کسی نے اپنا وعدہ ایفا کیا ہے تو وہ قائد اعظم تھے جنہوں نے پاکستان بنانے کا وعدہ کیا اور پھر پاکستان بنا کے دکھایا۔ اس کے بعد جتنے بھی ہمارے حکمران آئے انہوں نے اپنے بہت سارے وعدے توڑے اور اپنے اقوال کا پاس نہیں کیا۔ ہمیں ذوالفقار علی بھٹو سے پہلے کے حکمرانوں کی وعدہ خلافیوں کا علم نہیں ہے مگر بھٹو دور سے ہم جانتے ہیں کہ کن کن حکمرانوں نے اپنے اقوال کا پاس نہ رکھا اور پنجابی زبان میں “نغلے” کہلوائے۔

ذوالفقار علی بھٹو نے روٹی کپڑے اور مکان کا وعدہ کیا جو نہ وہ پورا کرسکے اور نہ ان کی بیٹی بینظیر۔ اسی طرح انہوں نے اسلامی سوشلزم کا نعرہ لگایا جو بعد میں وڈیروں، جاگیرداروں اور مذہبی لیڈروں کے خوف کی وجہ سے دھرے کا دھرا رہ گیا۔ بھٹو نے خواندگی بڑھانے کا بھی وعدہ کیا جو بیرونی جمہوری طاقتوں کے دباؤ کا شکار ہو گیا۔

جنرل ضیاع نے پہلے الیکشن نوے دن میں کرانے کا وعدہ کیا جو وہ پورا نہ کرسکے۔ پھر انہوں نے ملک میں اسلامی نظام نافذ کرنے کا وعدہ کیا جو ایفا نہ ہو سکا۔ کہتے ہیں جنرل ضیاع کا اسلام صرف اور صرف بیرونی جمہوری طاقتوں کو روس کیخلاف مجاہدین کی کھیپ مہیا کرنے کی حد تک تھا۔ (آگے پڑھنے کیلیے یہاں کلک کیجئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

May 12, 2008: : ميرا پاکستانحکومت

بارہ مئی کے سانحہ کو آج پورا ایک سال ہو گیا۔ اس سانحے میں پچاس کے قریب ہلاک ہونے والوں کی اس قدر بے توقیری کی گئی کہ ابھی تک نہ تو اس سانحے کی کوئی باضابطہ عدالتی انکوائری ہوئی ہے اور نہ ہی صوبائی اور کراچی کی مقامی حکومتوں نے ان فسادات کی وجہ جاننے کی کوشش کی ہے۔ کراچی کے فسادات کو طاقت کا مظاہرہ قرار دینے اور ابھی تک کسی بھی انکوائری سے اجتناب اس وقت کی قومی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کے ان فسادات میں ملوث ہونے کے شکوک و شبہات میں اضافہ کرتے ہیں۔ اگر جنرل مشرف کی حکومت اور کراچی کی مقامی حکومت ان فسادات میں شامل نہ ہوتی تو سندھ ہائی کورٹ کی انکوائری کو کبھی پامال نہ کرتی اور تین نومبر ۲۰۰۷ کے غیرقانونی اقدامات کی بدولت وجود میں آنے والی سندھ ہائی کورٹ اس سوموٹو انکوائری کو داخل دفتر نہ کردیتی۔

اگر یہی فسادات کسی ترقی یافتہ ملک میں ہوئے ہوتے تو ان کی مکمل چھان بین ہوتی اور انہیں دوبارہ ظہورپذیر ہونے سے روکنے کیلیے اقدامات اٹھاتی۔ مگر ہم تو مفادات میں گھرے ہوئے ایسے سیاستدانوں اور حکمرانی کے پلے پڑے ہوئے ہیں جو شمالی علاقوں اور کشمیر کے زلزلے میں ہلاک ہونے والے لاکھوں افراد کو بھول گئے، وہ بھلا کراچی کے سو پچاس مرنے والوں کی کیا فکر کریں گے۔ (آگے پڑھنے کیلیے یہاں کلک کیجئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

May 9, 2008: : ميرا پاکستانسياست

اس وقت معزولی ججوں کی بحالی کے میچ میں جو ٹيمیں حصہ لے رہی ہیں ان میں ایک ٹیم پاکستانی عوام کی نمائندگی کررہی ہے اور دوسری بیرونی جمہوری طاقتوں کی۔ عوامی ٹیم میں سول سوسائٹي کے ارکان، وکلاء، اے پی ڈی ایم شامل ہیں۔ بیرونی جمہوری طاقتوں یعنی بی جے ٹی کی ٹیم میں پیپلز پارٹي، ایم کیو ایم، جمیعت علمائے اسلام، مسلم لیگ ق اور صدر مشرف شامل ہیں۔ اس ٹيم میں مسلم لیگ ن ریزرو کھلاڑی کے طور پر شامل ہے۔

نومارچ کو جب یہ میچ شروع ہوا تو عوامی ٹيم کے گولچی چیف جسٹس افتخار نے دوسری ٹیم کے فارورڈ اور کپتان صدر پرویز مشرف کی ہٹ اپنے پیڈوں پر روک کر بہت داد وصول کی ۔ کپتان پرویز مشرف نے اس کو اپنی تضحیک سمجھا اور امپائر کی ملی بھگت سے عوامی ٹیم کیخلاف ایک گول کردیا یعنی چیف جسٹس کو معزول کردیا۔ اس بے ایمانی کو تماشائیوں نے برداشت نہیں کیا اور وہ میدان میں داخل ہوگیے یعنی مظاہرے شروع کردیے۔ (آگے پڑھنے کیلیے یہاں کلک کیجئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

May 8, 2008: : ميرا پاکستان معاشرہ

مساجد میں بچوں کا شوروغوغا اور غل غپاڑہ ہمیشہ سے بزرگ نمازیوں کیلیے پریشانی کا باعث رہا ہے۔ بچوں کا شرارتی پن ویسے ہی مشہور رہا ہے اور لوگ ان کی مثالیں دیا کرتے ہیں۔ لیکن یہ شرارتیں کبھی کبھار انتہائی صابر اور بچوں سے پیار کرنے والے شخص کا دماغ بھی گھما دیتی ہیں۔ یہی کچھ پچھلے اتوار کو ظہر کی نماز کے دوران ہوا۔

 ہماری مسجد میں بچوں کو اسلامی تعلیم دینے  کیلیے ہفتہ اتوار کے دن دوگھنٹے کی کلاس ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ظہر کا وقت ہو جاتا ہے اور والدین بچوں سمیت مسجد میں نماز کیلیے رک جاتے ہیں۔ اس دوران کچھ والدین کام کاج کی وجہ سے لیٹ ہوجاتے ہیں اور ان کے بچے بھی مسجد میں نماز کیلیے رک جاتے ہیں۔ کل وہی ہوا جو ہر ہفتہ اتوار کو ہوتا ہے یعنی بچوں نے دوران نماز جی بھر کر شرارتیں کیں اور اس دفعہ تو انہوں نے اتنا شور مچایا کہ نمازی بل بلا اٹھے۔ کرنا خدا کا ایسا ہوا کہ مغرب کی نماز میں بھی کسی کے دو تین سالہ دو بچوں نے خوب شور مچایا جس کی وجہ سے امام صاحب سمیت سارے نمازی ڈسٹرب ہوئے۔

 اب پھر ایک دفعہ یہ بحث چھڑگئي کہ بچوں کو شرارتوں سے کیسے روکا جائے۔ کسی نے کہا کہ بچوں کو والدین کے بغیر مسجد میں نہیں داخل ہونے دینا چاہیے۔ کسی نے کہا کہ جس کا بچہ شور مچائے اس بچے کو نمازیوں کے سامنے لا کر اس کے والدین کی سرزنش کی جائے۔ کسی نے بچوں کی نگرانی کیلیے ایک شخص کی ڈیوٹی کی تجویز پیش کی جو نماز باجماعت پڑھنے کی بجائے صرف بچوں کو شرارتوں سے باز رکھے۔ کسی نے کہا کہ ہر بچے کو ایک نمازی کیساتھ کھڑا کیا جائے۔ (آگے پڑھنے کیلیے یہاں کلک کیجئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

May 7, 2008: : ميرا پاکستانسياست

یونیورسٹی کے دور میں ٹی سی کرنے کو بہت برا سمجھا جاتا تھا اور اسے طعنے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ جب کوئی طالبعلم کسی استاد کیساتھ گپ شپ لگاتا ہوا پکڑا جاتا تو اسے ٹی باز کہا جاتا تھا۔

 ٹی سی اسی طرح دو گندے الفاظ کا مخفف ہے جس طرح انگریزی میں این ورڈ نیگرو کیلے اور بی ایس بل شٹ کیلیے استعمال ہوتا ہے۔ لوگ ایف ورڈ بھی ایک گندی گالی کیلیے استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح کے مخفف وہ سلجھے ہوئے لوگ استعمال کرتے ہیں جو گندے الفاظ سے اپنی زبان پلید نہیں کرنا چاہتے یا پھر بچے اپنے والدین کے سامنے استعمال کرکے دوسروں کی شکایت لگاتے ہیں کہ اس نے یہ لفظ کہا ہے۔ (آگے پڑھنے کیلیے یہاں کلک کیجئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

May 6, 2008: : ميرا پاکستانسياست

آجکل ملک میں جو سیاسی افراتفری پائی جاتی ہے اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ سیاستدان اپنی زبانوں سے اس طرح پھر یعنی مکر رہے ہیں جس طرح تھالی ميں کھیر پھر جاتی ہے۔ کل کے دشمن آج کے دوست بننے میں ایک لمحے کا توقف نہیں کررہے۔ ایک پارٹی اپنی حلیف پارٹی کی دشمن پارٹي کیساتھ پینگیں چڑھا رہی ہے اور دوسری پارٹي اپنے مخالفوں کے کیمپ میں گھسنے کی تیاری کررہی ہے۔ ابھی یہ گورکھ دھندہ ختم نہیں ہوا تھا کہ ضمنی انتخابات کو دو ماہ کیلیے ملتوی کر کے ایک اور بکھیڑا کھڑا کردیا گیا ہے۔

 وزیراعلیٰ سرحد کے کندھے پر رکھ کر جو بندوق چلائی گئی ہے نشانچی اس کا نشانہ خود ہی بنتے نظر آرہے ہیں۔ وزیراطلاعات کا بیان ہے کہ اتنخابات کا التوا ایک سازش ہے۔ زرداری اور نواز شریف بھی غصے میں ہیں۔ وزیرقانون فاروق ایچ نائق نے چیف الیکشن کمشنر سے وضاحت مانگی ہے۔ مشیرداخلہ رحمن ملک نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال ابھی بہتر ہورہی ہے تاہم الیکشن کمیشں نے کن وجوہات کی بنا پر انتخابات ملتوی کیے ان کا جواب چیف الیکشں کمیشنر ہی دے سکتے ہیں۔ (آگے پڑھنے کیلیے یہاں کلک کیجئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

May 5, 2008: : ميرا پاکستانسچی کہانیاں

ہم نے اپنی سدابہار تحریر “نعرے” میں ایک کاروباری سیاسی شخصیت نیک عالم کے نعرے کا بھی ذکر کیا ہے۔ ہم نے بنفس نفیس ان کے جلسے میں شرکت کی اور حقیقت میں دیکھا کہ جب کل پندرہ سولہ سامعین میں سے ایک نے شرارت کے طور پر یہ نعرہ “نیک عالم دی نیک ہوا، پرچی لے کے چلہے[مہذب لفظ] وچ پا” لگایا تو نیک عالم نے مائیک پر ہی گالیوں کی بوچھاڑ شروع کردی۔ اس شخصیت کا ذکر صرف نعرے کی حد تک تھا اور اس سے ان کی تضحیک مراد نہیں تھی۔

ہمارے ایک قاری نے جب یہ تحریر پڑھی تو انہوں نے ریکارڈ کی درستگی کیلیے اپنے تبصرے میں اس مقامی شخصیت کا مندرجہ ذیل تعارف پیش کیا ہے۔ ہم نے سوچا کیوں ناں ان کی تحریر کو “کیسے کیسے لوگ” میں چھاپ کر قارئین کیساتھ شیئر کیا جائے۔ جاوید گوندل صاحب لکھتے ہیں

تاریخ و واقعات اور ریکارڈ کی درستگی کی خاطر کچھ حقائق عرض کرنا چاہتا ہوں۔ آپ نےچوہدری نیک عالم گوندل مرحوم کے علاقے کا مکین ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ مگر حیرت ہے کہ جس تجاہلِ عارفانہ سے اور جس انداز میں آپ نے چوہدری نیک عالم مرحوم کا ذکر کیا ہے اس سے لگتا ہے آپ چوہدری نیک عالم مرحوم کے بارے میں واقعی نہیں جانتے۔ چوہدری نیک عالم گوندل مرحوم کھاریاں سے تین کلو میٹر مغرب میں واقع گاؤں عالم پورگوندلاں میں میاں کرم الہٰی گوندل مرحوم کے گھر 1901 میں پیدا ہوئے۔ (آگے پڑھنے کیلیے یہاں کلک کیجئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

May 2, 2008: : ميرا پاکستانميڈیا

آج ہمارے ذہن میں خیال آیا کیوں ناں “بہترین اردو بلاگ” کے ایوارڈ کا اجرا کیا جائے۔ اس طرح ہو سکتا ہے موجودہ بلاگرزاور نئے لکھنے والے اردو بلاگنگ کی ترویج و ترقی کیلیے مزید جوش و خروش کا مظاہرہ کریں۔ بہترین بلاگ کو چننے کیلیے ہمارے ناقص ذہن میں سروے کا طریقہ ہی آیا ہے۔ یعنی تمام بلاگز کو سروے میں ڈال دیا جائے اور سب سے ووٹ کرنے کیلے کہا جائے۔ ایک مقررہ میعاد میں جس کو بھی زیادہ ووٹ ملیں اسے سال کے بہترین بلاگ کے ایوارڈ کا حق دار قرار دے دیا جائے۔ اس سروے پر اگر ووٹنگ خفیہ رکھی جائے تو زیادہ مناسب رہے گا۔ ہمارے پاس جو سروے ہے اس میں ایسی کوئی آپشن نہیں ہے۔ اس لیے ہم تو اسے خفیہ نہیں رکھ پائیں گے اب پتہ نہیں یہ طریقہ ٹھیک رہے گا یا نہیں۔ اگر کسی کے پاس اس سے بہترین آئیڈیا ہو تو ہم اس کو بھی اپنا سکتے ہیں۔ (آگے پڑھنے کیلیے یہاں کلک کیجئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Next Page »