کافی دنوں سے مہنگائی، لاقانونیت اور حکومت کی بچگانہ حرکات کے بارے میں سوچ سوچ کر دل بیٹھا جا رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ کچھ لکھنے کو جی نہیں چاہ رہا تھا۔ کل جب وفاقی وزیر قانون کی زبانی سنا کہ آئینی پیکیج وہ خود بنارہے ہیں تو سوچا ان کے اس جھوٹ کےساتھ دو دو ہاتھ کر ہی لیں۔

جب فاروق نائک سے ٹی وی اینکر نے دوبارہ پوچھا کہ کیا صرف وہ خود ہی آئنی پیکیج تیار کر رہے ہیں تب انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا اور پھر آصف زرداری کی مشاورت بھی شامل کرلی۔ سوچنے والی یہ بات ہے کہ اگر آئینی پیکیج صرف ایک ہی آدمی نے بنانا تھا تو پھر صدر مشرف کے بگاڑے ہوئے آئین کو من و عن قبول کرلیا جاتا کیونکہ انہوں نے ترامیم بھی آرڈینینس کے ذریعے ہی کی تھیں۔

لیکن ہم یہ بات ماننے کو تیار ہی نہیں ہیں کہ موجودہ حکومت اور اس کا وزیر قانون خود مختار ہے اور وہ آئین میں تبدیلی قوم کی فلاح و بہبود کے لیے کر رہے ہیں۔ ابھی کل کی خبر ہے کہ اٹارنی جنرل سے امریکی ماہرین قانون نے لمبی ملاقات کی ہے۔ اس سے قبل آپ پچھلے ہفتے کی موجودہ تصاویر دیکھ کر اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہم کتنے خود مختار ہیں اور پاکستان کا اصل حکمران کون ہے۔

We cannot display this gallery

ہمارا پکا یقین ہے کہ بیرونی جمہوری طاقتیں مداخلت کرکے ایسا آئینی پیکیج لانے کی کوشش کررہی ہیں جس سے صدر بھی بااختیار رہے اور جج بھی بحال ہوجائیں مگر ان کے اختیارات کم کر دیے جائیں۔ بیرونی جمہوری طاقتیں نہیں چاہتیں کہ پاکستان میں دیرپا استحکام رہے اور یہاں کا سسٹم ٹھیک ہو جائے۔ وہ چاہیں گی کہ پاکستان کے حالات اس سے بھی ابتر ہو جائیں تاکہ اس کے ٹکڑے کرنے میں کسی تردد کی ضرورت نہ پڑے۔

لیکن کیا کیا جائے ہمارے حکمران مکمل طور پر بکے ہوئے ہیں یا اپنی مجبوریوں اور خود غرضیوں کی وجہ سے بیرونی جمہوری طاقتوں کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں۔ ان کے بس میں اگر کچھ ہوتا تو اب تک نظر آجاتا۔ وہ ملکر بیٹھتے اور پاکستان کے مسائل کو زیر بحث لاتے۔ اسمبلی کا اجلاس بلایا جاتا اور اس میں مہنگائی اور لا اینڈ آرڈر کی صورتحال کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی جاتی۔ وہ حکومت اپنے ارادوں میں مخلص ہو ہی نہیں سکتی جسے اپنے ایک صوبے بلوچستان میں باسٹھ ارکان میں سے بیالیس کو وزیر بنانا پڑے۔ اب کوئی ان سے پوچھے کہ ایک چھوٹے صوبے کیلیے اتنے وزیروں کی کیا ضرورت تھی۔

حکومت کی اب تک کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ہے اور یہ پرویز مشرف کے دور کا تسلسل ہے۔ ابھی تک عوامی حکومت نے کوئی انقلابی قدم نہیں اٹھایا۔ ہوسکتا ہے پاکستان اب ایک آزاد اور خود مختار ملک نہ رہا ہو اور ہر آنے والی حکومت اسی طرح غلامی کی زنجیروں میں جکڑی غيروں کے اشاروں پر اپنے ملک اور اس کے عوام کا ستیاناس کرتی رہے۔

پتہ نہیں کب ہم لوگ اس قابل ہوں گے کہ اپنی حکومت کو بکنے سے روک سکیں اور ان کی سوئی ہوئی غیرت کو جگا سکیں۔ ابھی تک تو ہر حکومتی کارندہ ایک دوسرے سے بڑھ کر بکنے کو تیار بیٹھا ہے۔ اسے بس ڈالروں کی خوشبو سنگھا دو چاہے اس کے بدلے اسے ساری عمر بے غیرتی کے گٹر میں گزارنی پڑے۔