نواز شریف کی سیاسی خودکشی کی وجوہات

پرویز صاحب Ú©ÛŒ کتاب Ú©Û’ باب چودہ کا عنوان ہے “خودکشی Ú©ÛŒ وجوہات” جس میں وہ نواز شریف Ú©ÛŒ سیاسی خودکشی پر اپنی راۓ دیتے ہیں۔

ان کے حساب سے نواز شریف اور ان کے درمیان چھوٹے موٹے اختلافات کے علاوہ سب سے بڑے تین اختلافات تھے یعنی جنرلوں کو ریٹائر نہ کرنا، صحافی نجم سيٹھي کا کورٹ مارشل کرنے سے انکار اور کارگل کا معرکہ۔

پتہ نہیں ابھی تک گرفتار ہونے والے صحافی نجم سيٹھي نے پرویز صاحب کی باتوں کی تردید یا تصدیق کیوں نہیں کی۔ کیا ان کا پیشہ انہیں مجبور نہیں کررہا کہ وہ بولیں اور حقیقت کیا تھی بیان کریں۔

پرویز صاحب کہتے ہیں کہ انہوں نے ہرممکن نواز شریف کی حکومت کی مدد کرنے کی کوشش کی۔ ان کی سفارش پر واپڈا پر قبضہ کیا اور فوجی عدالتیں قائم کیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان دونوں اقدامات نے ملک کو کوئ فائدہ نہیں پہنچایا۔ واپڈا آج بھی وہیں پر ہے جہاں تھا لیکن فوج نے اپنے ہاتھ ضرور پیلے کرلۓ۔ فوجی عدالتوں نے بھی انصاف دلانے میں کوئی خاص کردار ادا نہ کیا بلکہ ان کی ناکامی کی بنا پر انہیں بعد میں ختم کردیا گیا۔

ان تین باتوں کے علاوہ پرویز صاحب نے نواز شریف کی ایک برائی صرف مغرب کو خوش کرنے کیلۓ کتاب میں شامل کی ہے وہ ہے آئین کی پندرہویں ترمیم کا ذکر۔ بقول پرویز صاحب کے اس ترمیم سے نواز شریف ملک میں شریعت نافز کرنا چاہتے تھے تاکہ وہ پرانے دور کی خلافت واپس لاسکیں ۔ پرويز صاحب یہ بھی اقرار کرتے ہیں کہ اب تک کا پاکستان کی گورنمنٹ کا سیٹ اپ دین کو حکومت سے جدا کۓ ہوۓ تھا اور اب بھی ہے۔

ہمارے خیال میں پندرہویں ترمیم بھی ایک ڈھونگ تھی اور نواز شریف صاحب جنرل ضیا کی باقیات ہونے کی وجہ سے اسلام کو استعمال کرکے عوام کو بیوقوف بناۓ رکھنا چاہتے تھے۔ لیکن پرویز صاحب نے اس ترمیم کو اپنی کتاب میں شامل کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ انہوں نے نواز شریف کو ہٹا کر شریعت بل کو ناکام بنایا اور اس طرح مغرب پر بہت بڑا احسان کیا۔ اس طرح ہوسکتا ہے مغرب کی سپورٹ پرویز صاحب کو حاصل رہے اور مغرب اس بات سے ڈرتا رہے کہ اگر پرویز صاحب کی حکومت چلی گئ تو پاکستان میں شریعت نافز ہوجاۓ گی جو مغرب کو نامنظور ہے۔

پرویز صاحب نے قومیتوں کی تفریق کو بھی ایک وجہ کے طور پر گھسیٹا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ جنرل ضیاءالدین صاحب کو اسلۓ اولیت دی گئی کہ وہ کشمیری تھے اور میں مہاجر تھا۔ پرویز صاحب نے اس تفریق کی بات کرکے قوم جو پہلے ہی ذات پات میں تقسیم ہے پرکوئی اچھا اثر نہیں چھوڑا۔

پرویز صاحب نے نواز شریف کی حکومت کی معاشی بدحالی کا ذکر بھی کیا ہے لیکن اس وجہ کو پہلا درجہ نہیں دیا۔ یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ پرویز صاحب کے اکتوبر 1999 سے ستمبر 2001 تک کے دورِ حکومت میں بھی ملک کی معاشی حالت میں کوئی خاص فرق نہیں پڑا تھا۔ یہ تو بھلا ہو ستمبر گیارہ کا جس نے پرویز صاحب کے یو ٹرن کی وجہ سے پاکستانیوں نے اپنا سرمایہ پاکستان منتقل کرنا شروع کیا، ہمیں یوٹرن لینے کے انعام کے طور پر امداد دی گئ اور ہم نے اپنے ہی لوگوں کو اتحادیوں کے حوالے کرکے کروڑوں ڈالر کماۓ جس کی وجہ سے ملک کی نہیں حکومت کی معاشی حالت میں بہتری آئی اور پرویز صاحب اس قابل ہوۓ کہ وہ نواز شریف کے دور کی معاشي بدحالی کو اپنی تنقید کا نشانہ بناسکیں۔

ان سب باتوں کے علاوہ پرویز صاحب نے نواز شریف کی سیاسی خود کشی کی مزید تین وجوہات بیان کی ہیں۔

امکان نمر ۱: نواز شریف کا یہ منصوبہ ہوگا کہ وہ ایک سال بعد مجھے جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹي کا چیئرمین بنا کر کھڈےلائن لگا دیں گے تاکہ وہ ایسے جنرل کو چیف بنا سکیں جو ان کی 2002 کے انتخابات میں مدد کرسکے۔

اگر نواز شریف صاحب کا یہ منصوبہ تھا تو وہ کبھی بھی پرویز صاحب سے نہ بگاڑتے بلکہ آرام سے یہ ساری کاروائی مکمل کرلیتے۔ اسلۓ پرویز صاحب کی یہ دلیل وزنی نہیں لگتی۔

امکان نمر ۲: جیسا کہ پہلے میں نے بیان کیا کہ نواز شریف صاحب اپنے کسی با اعتماد جنرل کو چیف بنانا چاہتے تھے کیونکہ میں مہاجر تھا اسلۓ شائد وہ مجھ پر اعتماد نہیں کرتے ہوں گے۔ وہ مجھے ہٹا کر ہوسکتا ہے امریکہ اور بھارت کر دکھانا چاہتے ہوں کہ ان کا اپنی فوج پر مکمل کنٹرول ہے۔

اچھا اس کامطلب ہے کہ پرویزصاحب نے نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ کر امریکہ اور بھارت کو بتا دیا کہ ان کے ملکوں کی طرح پاکستان کا وزیرِ اعظم فوج کا حاکمِ اعلیٰ نہیں ہے اور ابھی بھی فوج کا چیف سب سے طاقتور ہے اور اس کے آگے وزیرِ اعظم بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ اس کے علاوہ مہاجر ازم کو پرویز صاحب نے یہاں لاکر قوم پر کوئی اچھا تاثر نہیں چھوڑا۔ ہوسکتا ہے پرویز صاحب عوام کو حکومت کی ایم کیو ایم کیساتھ ڈیل کی اصل وجہ بتانا چاہتے ہوں۔ ہمارے خیال میں ہمارے حکمرانوں کو کوئی ایسی بات نہیں کرنی چاہۓ جس سے ذات پات کی تفریق کم ہونے کی بجاۓ مزید بڑھے۔

امکان نر۳: ہوسکتا ہے کہ ان کے حواریوں نے انہیں یہ رپورٹیں دی ہوں کہ میں ان کی حکومت کا تختہ الٹنا چاہتا تھا۔ ان حواریوں ميں پرویز صاحب نے جنرل ضیاءالدین کا نام بھی شامل کیا ہے۔

اگر اجمل صاحب نے جو بتایا وہ سچ ہے کہ طیارے کو نہ اترنے دینا ایک ڈرامہ تھا اور فوج نے طیارے کے پاکستان کے فضا میں داخل ہونے سے پہلے ہی حکومت پو قبضہ کرلیا تھا تو پھر نواز شریف کا خوف بجا تھا۔ اگر یہ مفروضہ غلط بھی ہو تب بھی جب آپس میں اختلافات پیدا ہوجاتے ہیں تو پھر دونوں فریق ایک دوسرے سے چھٹکارا پانے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ فریق کامیاب ہوجاتا ہے جو طاقتور ہوتا ہے۔ اس معرکے میں نواز شریف صاحب کمزور ثابت ہوۓ اور ہار گۓ۔

اس باب کے آخر میں پرویز صاحب نے بہت ساری دوسری وجوہات کا بھی ذکر کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ نواز شریف صاحب کا دور ایک ناکام دور تھا اور عوام ان سے تنگ آ چکےتھے۔ یہ الگ بات ہے کہ جو جو برائیاں پرویز صاحب نے نواز شریف حکومت میں گنوائی ہیں وہ پرویز صاحب کی اپنی حکومت میں جوں کی توں موجود ہيں سواۓ حکومت کی معاشي حالت کی بتری کے۔ اور یہ بہتری بھی پرویز صاحب کی مرہونِ منت نہیں ہے بلکہ یوٹرن کا انعام ہے۔

مثلاً پرویز صاحب فرماتے ہیں کہ نواز شریف کے خلاف بغاوت ملک کی سیاسی، معاشرتی اور معاشی بدحالی کی وجہ سے بھی تھی۔ دیکھا جاۓ تو اب بھی ملک سیاسی اور معاشرتی بدحالی کا شکار ہے۔ پرویز صاحب کہتے ہیں نواز شریف کے دور میں فرقہ بندی انتہا پر تھی، پولیس مکمل طور پر مایوس ہوچکی تھی، لاقانونیت کا دور دورہ تھا، عدالتیں بے اختیار ہوچکی تھیں،، عوام ملک کے مستقبل سے مایوس ہوتے جارہے تھے، عوام پاکستانی ہونے پر فخر نہیں کرسکتے تھے اور عوام تبدیلی کا بےتابی سے انتظار کررہے تھے۔

جیسا کہ ہم نے پہلے کہا ہے سواۓ حکومت کی معاشی حالت کی بہتری کے اوپر بیان کردہ ساری خرابیاں اب بھی پاکستان میں موجود ہیں۔ نہ ہی عدالتیں آزاد ہیں، نہ ہی عوام کو انصاف مل رہا ہے، نہ ہی عوام کا پولیس پر اعتماد بحال ہوا ہے، چوری ڈاکوں نے عوام کا ناک میں دم کر رکھا ہے، عوام اب بھی پاکستانی ہونے پر فخر محسوس نہیں کرتے کیونکہ ملک میں ڈکٹیٹرشپ نافز ہے اور عوام حکومت کی تبدیلی کا پھر بے چینی سے انتظار کررہے ہیں۔ ہاں ملک اسلامی شریعت کے نفاذ سے محفوظ ہوچکا ہے اوراب مغرب اس خطرے سے آزاد ہے۔

آخر ميں پرویز صاحب فوج کی خوبی یہ بیان کرتے ہیں کہ یہاں پر سینیئرز کا حکم مانا جاتا ہے اور ڈسپلن موجود ہے۔ لیکن یہ ڈسپلن تب تک ہی ہے جب تک ماورائی ہاتھ کی آشیرباد حاصل ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم نے خود فوج کو اپنے سینیئرز کے خلاف بغاوت کرتے بھی دیکھا ہے۔